انوارالعلوم (جلد 10) — Page 226
۲۲۶ کا سوال آتا ہے تو وہ بائیکاٹ کا فیصلہ کر دیتے ہیں اور اس طرح مسلمانوں کو ان کے جائز حقوق سے محروم کر دیتے ہیں- میں ہر گز نہیں سمجھ سکتا کہ مسلمانوں نے انہیں اسی غرض سے کونسل میں بھیجا تھا کہ وہ عین اس وقت جب کہ مسلمانوں کے آئندہ حقوق کا سوال پیش ہو روٹھ کر بیٹھ جائیں اگر وہ ذرہ بھی ٹھنڈے دل سے غور کریں گے تو وہ اپنی غلطی کو محسوس کریں گے اور انہیں معلوم ہو جائے گا کہ اس وقت انہوں نے مسلمانوں کا فائدہ کرنے کی بجائے مسلمانوں کو سخت نقصان پہنچایا ہے- اللہ تعالیٰٰ ان پر رحم کرے- دوسرا سبب میں نے بتایا تھا کہ وہ پالیسی ہے جو مسلمان ابتدائے اصلاحات سے پنجاب میں اختیار کر چکے ہیں اس کی تفصیل یہ ہے کہ کونسلوں کی ابتداء میں میاں سر فضل حسین صاحب نے دیکھا کہ مسلمانوں کو گورنمنٹ نے پورے حق نہیں دیئے اور باوجود پنجاب میں کثیرالتعداد ہونے کے کونسلوں میں وہ قلیلالتعداد ہیں اور شاید انہیں حکومت میں کوئی حصہ نہ ملے- تب انہوں نے آہستہ آہستہ ایک زمیندار پارٹی تیار کی اور ہندوؤں میں سے کچھ لوگوں کو جدا کر لیا اور اس طرح ایک جماعت تیار کر لی جس کی مدد سے وہ مسلمانوں کے حقوق کی ایک حد تک نگہداشت کرنے میں کامیاب ہو گئے لیکن انہیں یہ معلوم نہ تھا کہ آئندہ یہی پالیسی مسلمانوں کے لئے مضر ہوگی- دوسری کونسل میں وہ ایگزیکٹو کونسل کے ممبر ہو گئے اور اس وجہ سے لازماً چوہدری چھوٹو رام صاحب جو ہندو زمیندار پارٹی کے سربرآوردہ رکن تھے اور سرمیاںفضلحسین صاحب کے نائب تھے پارٹی کے لیڈر ہو گئے اور مسلمان پارٹی ایک ہندو کی لیڈری میں آگئی- اب جو سائمن کمیشن کیلئے انتخاب ہونے لگا تو اس زمیندار پارٹی کو یہ مشکل پیش آئی کہ اگر چوہدری چھوٹو رام صاحب کو ممبر نہیں مقرر کرتے تو اخلاقی الزام آتا ہے کہ ان کی قوم سے انہیں جدا کر کے اس اہم موقع پر انہیں الگ کر دیا- اور پھر یہ بات بھی عجیب معلوم ہوتی تھی کہ پارٹی کا لیڈر اس موقع پر پارٹی کا نمائندہ نہ ہو- پس ان اخلاقی اور رسمی ذمہ واریوں سے متاثر ہو کر پارٹی نے چوہدری صاحب کو منتخب کر لیا اور دو مسلمان ممبروں پر کفایت کر لی- ایک لحاظ سے تو یہ انتخاب قابل تعریف تھا کیونکہ اس سے ظاہر ہو گیا کہ مسلمان کی سرشت میں وفاداری ہے اور وہ اپنا بہت بڑا نقصان برداشت کر کے بھی اپنے ہمراہی کا ساتھ چھوڑنے پر تیار نہیں ہوتا- لیکن دوسرے لحاظ سے یہ ایک خطرناک غلطی تھی جس کا ذکر اوپر ہو چکا ہے- میرے نزدیک مسلمان ممبروں کو چاہئے تھا کہ جب انہیں معلوم تھا کہ خلافتی اس وقت اسلام