انوارالعلوم (جلد 10) — Page 194
۱۹۴ کندہناتراش ۳۳؎ واعظ جو یونہی اٹھ کر کھڑے ہو جاتے تھے اور وہ علوم جدیدہ کے فریفتہ جو اپنی قوم کو اپنا ہم خیال بنانے کے لئے جدید علوم کو اپنا مذہبی مسئلہ بنا کر پیش کرنے کے عادی تھے دونوں سخت گھبرا گئے- آریہ جو روح و مادہ کے انادی ہونے کے متعلق خاص فخر کیا کرتا تھا اس سوال پر آکر بالکل ساکت ہو گیا- کیونکہ وید میں دلیل تو الگ رہی اس مسئلہ کا بھی کہیں ذکر نہیں- آج تک آریہ سماج کے علماء مشغول ہیں مگر وید کی کوئی شرتی نہیں نکال سکے جس سے ان کا یہ مطلب حل ہو- یہی حال دوسرے مذاہب کا ہوا- وہ اس اصل پر اپنے مذاہب کو سچا ثابت نہ کر سکے- لیکن اسلام کا ہر ایک دعویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے قرآنکریم سے نکال کر دکھا دیا اور ہر دعویٰ کے دلائل بھی اسی میں سے نکال کر بتا دیئے- اس حربہ کو آج تک احمدی جماعت کے مبلغ کامیابی کے ساتھ استعمال کر رہے ہیں اور ہر میدان سے کامیاب آتے ہیں- (ج) تیسرا اصل آپ نے یہ پیش کیا کہ ہر مذہب جو عالمگیر ہونے کا دعویٰ رکھتا ہے اس کے لئے صرف یہ ضروری نہیں کہ وہ یہ ثابت کر دے کہ اس کے اندر اچھی تعلیم ہے بلکہ عالمگیر مذہب کیلئے ضروری ہے کہ وہ یہ ثابت کرے کہ اس کی تعلیم ہر فطرت کو تسلی دینے والی اور ضرورت حقہ کو پورا کرنے والی ہے- اگر خالی اچھی تعلیم کسی مذہب کی صداقت کا ثبوت سمجھی جائے تو بالکل ممکن ہے کہ ایک شخص کہہ دے کہ میں ایک جدید مذہب لایا ہوں اور میری تعلیم یہ ہے کہ جھوٹ نہ بولو، ظلم نہ کرو، غداری نہ کرو- اب یہ تعلیم تو یقیناً اچھی ہے لیکن ہر ضرورت کو پورا کرنے والی نہیں- اور اس وجہ سے باوجود اچھی ہونے کے مذہب کی صداقت کا ثبوت نہیں ہو سکتی- مذاہب موجودہ میں سے مسیحیت کی مثال لی جا سکتی ہے مسیحیوں کے نزدیک مسیح کا سب سے بڑا کارنامہ اس کی وہ تعلیم ہے جس میں وہ کہتا ہے کہ اگر تیرے ایک گال پر کوئی تھپڑے مارے تو دوسرا بھی اس کے آگے پھیر دے- اب بظاہر یہ تعلیم بڑی خوبصورت نظر آتی ہے لیکن اگر غور کیا جائے تو فطرت صحیحہ کے مخالف ہے- کیونکہ فطرت نیکی کا قیام چاہتی ہے اور اس تعلیم سے بدی بڑھتی ہے- اسی طرح ہر ضرورت کو بھی یہ نہیں پورا کرتی- کیونکہ انسان کو دشمن کا مقابلہ کرنے کی بھی ضرورت پیش آتی ہے اور اس ضرورت کا اس میں علاج نہیں- اس اصل کے ماتحت بھی دشمنان اسلام کو ایک بہت بڑی شکست نصیب ہوئی اور اسلام کو بہت سے میدانوں میں غلبہ حاصل ہوا-