انوارالعلوم (جلد 10) — Page 193
۱۹۳ اصل ثبوت تو صرف یہی ہو سکتا ہے کہ جس مقصد کے لئے مذہب کی ضرورت ہوتی ہے یعنی اللہ تعالیٰ کا قرب، وہ انسان کو حاصل ہو جائے- اور اسی دنیا میں حاصل ہو جائے کیونکہ اگر کوئی مذہب یہ کہے کہ وہ مرنے کے بعد نجات دلائے گا تو اس دعویٰ پر یقین نہیں کیا جا سکتا اور اس کی صداقت کو پرکھا نہیں جا سکتا- اور علاوہازیں اس دعویٰ میں سب مذاہب شریک ہیں- کوئی مذہب نہیں جو کہتا ہو کہ میرے ذریعہ سے نجات نہیں مل سکتی- گو نجات کے مفہوم میں ان کو اختلاف ہو- پس بعد مرنے کے نجات دلانے کا دعویٰ نہ قابل قبول ہے اور نہ مذہب کی غرض کو پورا کرتا ہے- جو چیز قابل قبول ہو سکتی ہے وہ یہی ہے کہ مذہب مشاہدہ کے ذریعہ ثابت کر دے کہ اس نے انسانوں کی ایک جماعت کو جو اس پر چلتی تھی، خدا سے ملا دیا- اور اس کا قرب حاصل کرا دیا یہ دلیل ایسی زبردست ہے کہ کوئی شخص اس کی صداقت کا انکار نہیں کر سکتا- اور پھر ساتھ ہی یہ بھی بات ہے کہ اس دلیل کے ساتھ تمام فضول مذہبی بحثوں کا خاتمہ ہو جاتا ہے- اور نیز سوائے اسلام کے کوئی مذہب میدان میں باقی نہیں رہتا- کیونکہ یہ دعویٰ صرف اسلام کا ہے کہ وہ آج بھی اسی طرح فیوض ظاہر کرتا ہے جس طرح کہ پہلے زمانوں میں فیوض ظاہر ہوتے تھے اور لوگوں کو خدا سے ملا دیتا ہے- اور خدا تعالیٰ کے قرب کے آثار کا مشاہدہ کرا دیتا ہے- چنانچہ آپ کے اس اعلان کا یہ نتیجہ ہوا کہ غیر مذاہب کے پیروؤں کو آپ کا اور آپ کی جماعت کا مقابلہ کرنا مشکل ہو گیا اور وہ ہر میدان میں شکست کھا کر بھاگنے لگے- (ب) دوسرا اصل مذہبی مباحثات کے متعلق آپ نے یہ پیش کیا کہ دعویٰ اور دلیل دونوں الہامی کتاب میں موجود ہیں- آپ نے مذہبی دنیا کی توجہ اس طرف پھیری کہ اس زمانہ میں یہ ایک عجیب رواج ہو رہا ہے کہ ہر شخص اپنے خیالات کو اپنے مذہب کی طرف منسوب کر کے اس پر بحث کرنے لگ جاتا ہے- اور نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ نہ اس کی فتح اس کے مذہب کی فتح ہوتی ہے اور نہ اس کی شکست اس کے مذہب کی شکست ہوتی ہے اور اس طرح لوگ فضول وقت مذہبی بحثوں میں ضائع کرتے رہتے ہیں، فائدہ کچھ بھی نہیں ہوتا- پس چاہئے کہ مذہبی بحثوں کے وقت اس امر کا التزام رکھا جائے کہ جس دعویٰ کو پیش کیا جائے اس کے متعلق پہلے یہ ثابت کیا جائے کہ وہ اس مذہب کی آسمانی کتاب میں موجود ہے اور پھر دلیل بھی اسی کتاب میں سے دی جائے کیونکہ خدا کا کلام بے دلیل نہیں ہو سکتا- ہاں مزید وضاحت کے لئے تائیدی دلائل دیئے جا سکتے ہیں- آپ کے اس اصل نے مذہبی دنیا میں ایک تہلکہ مچا دیا- اور وہ