انوارالعلوم (جلد 10) — Page 187
۱۸۷ لوگ محبت کا جذبہ زیادہ رکھتے ہیں وہ ان نشانات اور تجلیات سے محبت میں ترقی کر کے برے اثرات پر غالب آ جاتے ہیں اور پاک ہو جاتے ہیں- اور جو لوگ خوف کے جذبہ سے زیادہ موافقت رکھتے ہیں وہ خدا تعالیٰ کی قہری تجلیات سے متاثر ہو کر خوف کی وجہ سے برے اثرات پر غالب آ جاتے ہیں اور اس ذریعہ سے بیرونی اثرات جو ایک رنگ کا جبر کر رہے تھے، ان سے انسان محفوظ کر دیا جاتا ہے اور اصلاح نفس میں اسے مدد مل جاتی ہے- نیکی اور بدی کی تعریف اس جگہ طبعا یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ نیکی بدی کیا چیز ہیں- اور اصلاح نفس کس چیز کا نام ہے؟ اس سوال کا جواب مختلف لوگوں نے مختلف طرح دیا ہے(۱)بعض نے کہا ہے کہ جو چیز بری معلوم ہو وہ بری ہے اور جو اچھی معلوم ہو وہ اچھی ہے- یہ جواب چونکہ انسان کے خیال سے تعلق رکھتا ہے- اس کے ماتحت ہمیں کہنا پڑے گا کہ ایک ہندو جو بت پرستی کو اچھا سمجھتا ہے، اگر وہ بت پرستی کرے تو اس کا یہ فعل اچھا سمجھا جائے گا- لیکن اگر یہی فعل ایک مسلمان کرے تو برا سمجھا جائے گا- (۲)بعض نے کہا ہے کہ جو بات بحیثیت مجموعی اس شخص کے لئے یا دنیا کے لئے اچھی ہو وہ اچھی ہے اور جو اس لحاظ سے بری ہو، وہ بری ہے- پہلی رائے پر یہ اعتراض پڑتا ہے کہ اگر کوئی قتل کو اچھا سمجھ کر کسی کو قتل کرے تو کیا اس کایہ فعل نیکی ہوگا؟ یا کوئی شخص زنا کرتا ہے اور اسے جائز سمجھتا ہے تو کیا یہ اس کے لئے نیکی ہو جائے گا؟ دوسری رائے پر یہ اعتراض پڑتا ہے کہ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ جو چیز بحیثیت مجموعی اچھی ہو یا بری ہو، وہ نیکی یا بدی ہوگی- اس حیثیت مجموعی کے معلوم کرنے کا ذریعہ کیا ہوگا؟ انسان تو اپنے گردوپیش کی حالت کو بھی پوری طرح نہیں سمجھتا- وہ بحیثیت مجموعی کا پتہ کس طرح لگائے گا؟ اور جس چیز کا علم ہی انسان کو نہیں ہو سکتا اس سے وہ فائدہ کس طرح اٹھا سکتا ہے؟ (۳)تیسری رائے یہ ہے کہ جس بات سے فطرت انسانی انقباض کرے، وہ برائی ہے اور جس بات کی طرف رغبت کرے وہ نیکی ہے- ساری قومیں جھوٹ سے نفرت کرتی ہیں یہ برائی ہے- اور ساری قومیں صدقہ اور خیرات سے رغبت رکھتی ہیں یہ نیکی ہے- مگر اس پر یہ اعتراض پڑتا ہے کہ انسانی رغبت یا نفرت کا تو عادات سے بھی تعلق ہوتا ہے- ایک ہندو گائے کے ذبح کرنے سے سخت نفرت کے جذبات سے بھر جاتا ہے اور مسلمان اس فعل کی طرف