انوارالعلوم (جلد 10) — Page 186
۱۸۶ نفسانیت وغیرہ کا غلبہ ہوتا ہے- مگر خدا تعالیٰ ہر عمل کی سزا نہیں دیتا بلکہ صرف ان اعمال کی سزا دیتا ہے جن میں انسان کا اختیار ہوتا ہے- یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ اس آیت میں ماترک علی ظھرھا من دابہ فرمایا ہے- یعنی اگر انسان کے تمام اعمال پر سزا دیتا تو دنیا پر کوئی جانور بھی نہ چھوڑتا- اس پر طبعا سوال ہوتا ہے کہ جزا انسانوں کے اعمال کی دیتا تو جانور کیوں تباہ ہو جاتے؟ انسانوں کے مقدروں پر دواب کو کیوں سزا ملتی - مفسرین اس سوال کا جواب یہ دیتے ہیں- کہ چونکہ جانور انسان کے فائدہ کیلئے پیدا کئے گئے ہیں- اس لئے جب انسان تباہ کر دیئے جاتے تو جانور بھی تباہ کر دیئے جاتے- یہ جواب بھی گو صحیح ہو مگر میرے نزدیک اس میں اس طرف بھی اشارہ ہے- کہ انسان کے اعمال کا کچھ حصہ اسی طرح جبری ہوتا ہے جس طرح حیوانوں گائے بھینسوں کا ہوتا ہے- پس اگر انسان کے سارے اعمال کی سزا دی جائے تو لازماً گائے بیلوں وغیرھما کو بھی سزا دینی ہوتی اور سب حیوانات کو تباہ کر دیا جاتا- مگر ہم ایسا نہیں کرتے- اور جانوروں کو ان کے اعمال کا اس وجہ سے کہ وہ اختیاری نہیں ہوتے سزا نہیں دیتے- اسی طرح ہم انسان کے سب اعمال کی بھی سزا نہیں دیتے، صرف ان اعمال کی سزا دیتے ہیں جو اختیاری ہوتے ہیں- اب سوال یہ رہ جاتا ہے کہ جس حد تک انسان پر جبر ہوتا ہے اس کا کیا علاج ہے؟ یا وہ بےعلاج ہے؟ اس کا جواب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ دیا ہے کہ اس کا بھی علاج ہے اور وہ یہ کہ انسان کے اندر اللہ تعالیٰ نے خوف اور محبت کے جذبات بہ شدت پیدا کئے ہیں- ان کے ذریعہ سے وہ اپنی مجبوریوں پر بھی غالب آ جاتا ہے- مثلاً بھیڑیئے میں کاٹنے کا مادہ ہے، مگر محبت اسے مجبور کرتی ہے کہ اپنے بچے کو نہ کاٹے- گویا محبت اس کے کاٹنے کے جذبہ پر غالب آ جاتی ہے- یا جہاں آگ جل رہی ہو وہاں چیتا حملہ نہیں کرتا کیونکہ اسے اپنی جان کا خوف ہوتا ہے- چیتے کا طبعی تقاضا ہے کہ حملہ کرے مگر خوف اس کے اس تقاضا پر غالب آ جاتا ہے- اسی طرح اگر انسان کی محبت اور خوف کے جذبات کو ابھار دیا جائے تو وہ ان بدتاثیرات پر جو اس کے اعمال پر تصرف کر رہی ہوتی ہیں، غالب آ جاتا ہے- چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے اپنے فضل سے سامان پیدا کئے ہیں- اور وہ وقتا فوقتا دنیا میں اپنے مامور بھیجتا رہتا ہے اور ان کے ذریعہ سے اپنی قدرت اور اپنے جلال اور اپنے فضل اور اپنی رحمت کی شان دکھاتا رہتا ہے- تا کہ لوگوں میں کامل محبت اور کامل خوف پیدا کیا جائے- اس طرح جو