انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 185 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 185

انوار العلوم جلدها ۱۸۵ حضرت مسیح موعود کے کارنامے کرنا ہو گا اور اس حد تک اس کو سزا سے آزاد سمجھنا پڑے گا۔ پس پھر بھی کسی کفارہ یا تناسخ کی ضرورت نہ ہو گی۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ کہہ کر کہ گناہ وہ ہے جو جان بوجھ کر اور اپنے اختیار سے کیا جائے۔ گناہ کی تھیوری ہی بدل دی ہے اور اس وجہ سے قرآن کریم نے جزائے اعمال کے متعلق مندرجہ ذیل اصول کو مد نظر رکھا ہے۔ (1) اول اس نے وزن پر خاص زور دیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ انسانی اعمال کے متعلق یہ لحاظ رکھے گا کہ ان میں کہاں تک جبر یا اختیار کا دخل ہے (۲) دوسرے اس نے اللہ تعالیٰ کے مُلِكِ يَوْمِ الدِّینِ اس ہونے پر زور دیا ہے۔ یعنی اس نے حقیقی جزا سزا کو کسی اور کے سپرد نہیں کیا۔ اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ خدا تعالیٰ کے سوا کوئی عالم الغیب نہیں ہے۔ اگر جزا و سزا اوروں کے سپرد ہوتی تو وہ انسانی اعمال کے پیچھے جو جبر کا حصہ ہے اس کا خیال نہ رکھ سکتے اور ان اعمال کے بدلہ میں انسان کو گنہگار قرار دے دیتے جن کے کرنے میں وہ گنہگار نہیں یا پورا گناہ گار نہیں۔ اور ان اعمال کے بدلہ میں اسے نیک قرار دے دیتے جن کے کرنے سے وہ نیک نہیں ہوتا یا پورا نیک نہیں ہوتا۔ لطیفہ :۔ یاد رکھنا چاہئے کہ مُلِكِ يَوْمِ الدِّینِ اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ انسانی اعمال کے پیچھے اس قدر علتیں اور روکیں ہیں کہ ان کو سمجھے بغیر جزا سزا ظلم بن جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ن يَوْمِ الدِّینِ کے متعلق اپنے لئے مالکیت کا لفظ پسند فرمایا ہے۔ کیونکہ مالکیت حقیقی تصرف کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتی۔ ملکیت ہو سکتی ہے۔ ملک منتخب ہو سکتا ہے مگر مالک نہیں۔ اور اللہ تعالیٰ نے اس جگہ مَالِكُمْ يَوْمِ الدِّينِ بھی نہیں فرمایا ۔ بلکہ مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ فرما کر اس امر پر زور دیا ہے کہ اس جگہ تمہاری مالکیت پر اس قدر زور دینا مقصود نہیں جس قدر کہ اس دن کی مالکیت پر زور دینا مقصود ہے اور یہ بتانا مقصود ہے کہ اس وقت کا وہ مالک ہو گا۔ اور کہ اس وقت کا وہ مالک ہے۔ کوئی چیز اس کی نظر سے پوشیدہ نہیں رہے گی۔ ایک اور آیت بھی اس مضمون کی تائید کرنے والی ہے اور وہ یہ ہے وَلَوْ يُؤَاخِذُ اللَّهُ النَّاسَ بِمَا كَسَبُوا مَا تَرَكَ عَلَى ظَهْرِ هَا مِنْ دَابَّةٍ ٣٢، یعنی اگر خداتعالی انسان کو اس کے اعمال پر سزا دینے لگے تو کوئی جانور بھی زمین پر نہ چھوڑے۔ یعنی انسان سے بہت سے فعل ایسے صادر ہوتے رہتے ہیں جو خلاف شریعت ہوتے ہیں یا جن میں