انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 175 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 175

۱۷۵ ذرا ٹھہر جاؤ- میں پھر غور کر لوں- آخر کہنے لگے کہ یوں بھی ہو سکتا ہے- شہتیر کو زمین پر لمبا ڈال کر اس پر ایک ایک روٹی رکھ دی جائے اور اس طرح اسے ڈھانپ دیا جائے- (۲) دوسرا وسوسہ یہ پیدا ہو رہا تھا کہ بعض لوگ کہتے تھے کہ شریعت تو اصل مقصد نہیں ہے اصل مقصد تو انسان کا خدا تعالیٰ تک پہنچنا ہے پس جب خدا تعالیٰ تک پہنچ گئے تو پھر شریعت پر عمل کرنے کی کیا ضرورت ہے- یہ ایک خطرناک مرض تھا جو لوگوں میں پیدا ہو گیا تھا- صوفی کہلانے والے شریعت کے احکام پر عمل کرنا چھوڑ رہے تھے اور جب مسلمان ان سے پوچھتے کہ شریعت کے احکام پر کیوں عمل نہیں کرتے تو کہتے ہم خدا تعالیٰ تک پہنچ گئے ہیں- اب ہمیں شریعت کے احکام پر عمل کرنے کی کیا ضرورت ہے- اسی عقیدہ کا ایک آدمی ایک دفعہ میرے پاس بھی آیا تھا- میں جمعہ کی نماز سے فارغ ہو کر بیٹھا ہی تھا کہ اس نے مجھ سے سوال کیا کہ آپ یہ فرمائیں کہ کوئی شخص کشتی میں بیٹھ کر دوسرے کنارے تک پہنچ جائے تو پھر کیا اسے کشتی میں ہی بیٹھ رہنا چاہئے یا کشتی سے اتر جانا چاہئے- اس کا مطلب یہ تھا کہ جب خدا مل جائے تو پھر شریعت پر چلنے کی کیا ضرورت ہے- جونہی اس نے یہ بات کہی، میں اس کا مطلب سمجھ گیا- میں نے کہا-: اگر دریا کا کنارہ ہو تو بے شک کشتی کو چھوڑ کر اتر جائے- لیکن اگر کنارہ ہی نظر نہ آئے تو پھر کہاں اترے- ایسی صورت میں اگر اتر گیا تو غرق ہی ہوگا- یہ سنکر وہ بہت شرمندہ ہوا اور کوئی جواب نہ دے سکا- میرا مطلب یہ تھا کہ اللہ تعالیٰٰ کا قرب کوئی محدود شے تو نہیں کہ کہہ دیا جائے قرب حاصل ہو گیا ہے، اب شریعت کی کیا ضرورت ہے- حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس شبہ کا بھی خوب اچھی طرح ازالہ کیا اور بتایا کہ بے شک انسان کا اصل مقصد خدا تعالیٰ تک پہنچنا ہے شریعت پر عمل کرتے رہنا نہیں، مگر خدا تک پہنچنے کے اتنے مدارج ہیں جو ابدالاباد تک ختم نہیں ہو سکتے- اگر کوئی کہے کہ میں خدا تک پہنچ گیا، آگے کوئی درجہ نہیں ہے تو اس کے نزدیک گویا خدا تعالیٰ محدود ہوگا اور یہ عقیدہ کسی کا بھی نہیں ہے- پس جب خدا تعالیٰ کے قرب کے مدارج ختم نہیں ہو سکتے تو ان مدارج کو جس ذریعہ )شریعت( سے حاصل کیا جاتا ہے اسے بھی چھوڑا نہیں جا سکتا- (۳) تیسرا شبہ یہ پیدا ہو رہا تھا کہ بعض لوگ اس غلطی میں مبتلا ہو گئے تھے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام اعمال جزو شریعت ہیں- اس وجہ سے اگر کوئی مولوی