انوارالعلوم (جلد 10) — Page 168
۱۶۸ وہ شیطانی تھی اور خود مسیحیوں میں سے بعض نے آئندہ ایسا کرنا تھا، اس لئے خدا تعالیٰ نے ان کی برائت کے لئے فرمایا کہ ان کی پیدائش روح اللہ سے تھی، کسی گناہ کا نتیجہ نہ تھی- اور کسی ایسے فعل کا نتیجہ نہ تھی جو خدا کی شریعت کے خلاف ہو بلکہ کلمہ اللہ کے مطابق تھی- پس روح اللہ اور کلمہ اللہ کے الفاظ سے مسیح کی پیدائش کا ذکر کرنا تعظیماً نہیں بلکہ اس کی برائت کیلئے ہے- آپ نے یہ بھی بتایا کہ کوئی وجہ نہیں کہ ہم مسیح کی پیدائش کو قانون قدرت سے بالا سمجھیں- ایسی پیدائش اور انسانوں میں بھی ہو سکتی ہے اور حیوانوں میں تو یقیناً ہوتی ہے- باقی رہا یہ سوال کہ کیوں خدا تعالیٰ نے انہیں بلا باپ پیدا کیا؟ باپ سے ہی کیوں نہ پیدا کیا- تو اس کا جواب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ دیا کہ ابراہیم علیہ السلام کی پیشگوئیوں کے مطابق بنیاسرائیل میں سے متواتر انبیاء آ رہے تھے- جب ان کی شرارت حد سے بڑھ گئی تو اللہ تعالیٰ نے مسیح کی پیدائش کے ذریعہ سے انہیں آخری بار تنبیہہ کی اور بتایا کہ اب تک ہم معاف کر کے تمہارے اندر سے نبی بھیجتے رہے ہیں- مگر اب ہم ایک انسان کو بھیجتے ہیں جو ماں کی طرف سے بنی اسرائیل ہے اور باپ کی طرف سے نہیں- اگر آئندہ بھی باز نہ آؤ گے- تو ایسا ہی آئے گا جو ماں باپ دونوں کی طرف سے غیر اسرائیلی ہوگا- چنانچہ جب بنی اسرائیل نے اس تنبیہہ سے بھی فائدہ نہ اٹھایا اور شرارت میں بڑھتے گئے تو اللہ تعالیٰ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا جو کلی طور پر بنیاسرائیل سے جداتھے- پس حضرت مسیحؑ کی بے باپ پیدائش بطور رحمت کے نہیں بلکہ بنی اسرائیل کے لئے بطور انذار تھی- چنانچہ اس کا انجام یہی ہوا- دوسری غلطی مسیح ناصری علیہ السلام کے متعلق یہ لگی ہوئی تھی کہ مسلمان خیال کرتے تھے کہ صرف حضرت مسیح اور ان کی ماں مس شیطان سے پاک تھیں- اور کوئی انسان ایسا نہیں ہوا- حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کے متعلق بتایا کہ کل انبیاء بلکہ مومن بھی مس شیطان سے پاک ہوتے ہیں- چنانچہ مومنوں کو حکم ہے کہ جب وہ بیوی کے پاس جائیں تو یہ دعا پڑھا کریں-اللھم جنبنا الشیطان وجنب الشیطان ما رزقتنا- ۲۶؎ اے اللہ! مجھے بھی شیطان سے بچا اور میری اولاد کو بھی بچا- اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ جو بچہ پیدا ہوگا اسے شیطان مس نہ کرے گا- یہ گر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسِّ شیطان سے اولاد کو