انوارالعلوم (جلد 10) — Page 167
۱۶۷ کرتے ہیں- پس شفاعت تو قانون قدرت سے کامل مطابقت رکھنے والا مسئلہ ہے نہ کہ اس کے خلاف- (۴) انبیاء کے متعلق جن غلطیوں میں مسلمان مبتلا تھے ان میں سے چوتھے نمبر پر وہ غلطیاں ہیں- جو خصوصیت سے حضرت مسیح ناصری کے متعلق پیدا ہو رہی تھیں- مسیح کی ذات ایک نہیں متعدد غلطیوں کی آماجگاہ بنا دی گئی تھی- اور پھر تعجب یہ کہ ان کے متعلق مختلف اقوام غلط خیالات میں پڑی ہوئی تھیں- حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ان سب غلطیوں کو دور کیا- سب سے پہلی غلطی حضرت مسیحؑ ناصری کی پیدائش کے متعلق تھی- مسلمان بھی اور دوسرے لوگ بھی اس غلطی میں مبتلا تھے کہ حضرت مسیحؑ کی پیدائش انسانی پیدائش سے بالا قسم کی پیدائش تھی- اور ان کا روح اللہ اور کلمہ اللہ سے پیدا ہونا اپنی مثال آپ ہی تھا- اس خیال سے بڑا شرک پیدا ہو گیا تھا- حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کے متعلق فرمایا کہ سب انبیاء میں روح اللہ تھی اور سب کلمہ اللہ تھے- حضرت مسیحؑ پر چونکہ اعتراض کیا جاتا تھا اور انہیں نعوذباللہ ولد الزنا کہا جاتا تھا اس لئے ان کی بریت کے لئے ان کے متعلق یہ الفاظ استعمال کئے گئے ورنہ سارے نبی روح اللہ اور کلمہ اللہ تھے- قرآن کریم میں حضرت سلیمان کے کفر کا انکار کیا گیا ہے جیسا کہ فرمایاماکفرسلیمن ۲۵؎ اس سے یہ نتیجہ نہیں نکالا جا سکتا کہ صرف حضرت سلیمان علیہ السلام نے کفر نہیں کیا تھا باقی سب انبیاء نے کیا تھا- ان کے کفر کے انکار کی وجہ صرف یہ ہے کہ ان پر کفر کا الزام لگایا گیا تھا- اس لئے ان کے متعلق الزام کو رد کیا گیا- دوسرے انبیاء کے متعلق چونکہ اس قسم کا الزام نہیں لگا تھا اس لئے ان کے متعلق کفر کی نفی کرنے کی ضرورت نہ تھی- یہی حال حضرت مسیح علیہ السلام کا تھا- جن کے متعلق یہود کا الزام تو الگ رہا، بڑے بڑے عیسائی بھی کہتے ہیں کہ وہ (نعوذباللہ)ولد الزنا تھے- مگر اس میں ان کا کیا قصور تھا- چنانچہ ٹالسٹائے جو ایک بہت مشہور عیسائی ہوا ہے- اس نے مفتی محمد صاحب کو لکھا کہ اور تو مرزا صاحب کی باتیں معقول ہیں لیکن مسیح کو بن باپ قرار دینا میری سمجھ میں نہیں آتا- اگر اس کی وجہ مسیح کو پیدائش کے داغ سے بچانا ہے تو اس کی کوئی ضرورت نہیں- کیونکہ اس قسم کی پیدائش میں خداوند کا کیا قصور تھا- غرض یہود چونکہ آپ کی پیدائش پر الزام لگاتے تھے کہ