انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 145 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 145

۱۴۵ مانا- چونکہ الہام کے جاری ہونے میں کسی صفت سے ٹکراؤ نہیں اس لئے اس کے متعلق تعطل ماننا ناواجب ہے- اگر کوئی کہے کہ الہام کا سلسلہ جاری مانا جائے تو بھی تعطل ہوتا ہے کیونکہ ایک مجدد آتا ہے- پھر اس کے ایک سو سال بعد دوسرا آتا ہے اس طرح کچھ عرصہ کیلئے الہام میں تعطل تم بھی مانتے ہو- اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے نزدیک اس قسم کا کوئی تعطل واقع نہیں ہوتا- کیونکہ آپ نے صرف یہ نہیں فرمایا کہ الہام صرف نبی یا مجدد کو ہوتا ہے بلکہ آپ نے یہ فرمایا ہے کہ الہام مومنوں کو بھی ہوتا ہے بلکہ بعض دفعہ کافروں اور بدکاروں کو بھی- پس چونکہ زمین گول ہے اور ہر وقت دنیا کے کسی نہ کسی حصہ میں لوگ سو رہے ہوتے ہیں- پس بالکل قرین قیاس ہے کہ ہر سیکنڈ میں سینکڑوں اور ہزاروں لوگوں کو الہام ہو رہا ہوتا ہے اور ایک سیکنڈ بھی نزول الہام میں تعطل نہیں ہوتا- میں ذاتی طور پر اس شخص کو انعام دینے کو تیار ہوں جو یہ ثابت کر دے کہ کوئی ایک دن بھی ایسا گذرا ہو جس میں کسی کو خواب نہ آئی ہو یا الہام نہ ہوا ہو- اگر یہ ثابت ہو جائے تب بے شک تعطل کو تسلیم کیا جا سکتا ہے ورنہ نہیں- آپ نے آیات قرآنیہ سے بھی ثابت کیا ہے کہ الہام کے جاری رہنے کا خدا تعالیٰ نے وعدہ کیا ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے وعدوں کو جھوٹا نہیں کیا کرتا- اگر کوئی کہے خواب تو ہر ایک انسان دیکھ سکتا ہے اس کی بحث نہیں بحث الہام کے متعلق ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ اصل سوال یہ ہے کہ اب بھی لوگوں کی ہدایت کیلئے خدا تعالیٰ کوئی سامان پیدا کرتا ہے یا نہیں- اگر کرتا ہے تو یہ کہنا بیہودہ بات ہے کہ وہ آنکھوں کے ذریعہ سے لکھے ہوئے لفظوں یا تصویری زبان میں تو اپنے منشاء کو ظاہر کر سکتا ہے مگر کانوں کے ذریعہ سے آواز پیدا کر کے جسے الہام کہتے ہیں اپنے منشاء کو ظاہر نہیں کرتا- جب کہ اپنے آقا کی مرضی کو معلوم کرنا ایک فطری تقاضا ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ خدا تعالیٰ اسے پورا نہ کرے اور الہام کا دروازہ بند کرنا ایک سخت ظلم ہے جو خدا تعالیٰ سے بعید ہے- قرآن کریم کے متعلق غلط فہمیوں کا ازالہ کلام الہٰی میں سے خاص طور پر قرآن کریم کے متعلق بہت سی غلطیاں لوگوں میں پھیلی ہوئی تھیں- حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ان کو بھی دور کیا ہے مثلاً (۱) ایک غلطی