انوارالعلوم (جلد 10) — Page 140
۱۴۰ والے کا کوئی اندازہ صحیح بھی ہو جاتا ہے- اسی طرح پراگندہ خیالات میں سے کبھی کوئی اتفاقاً صحیح بھی ہو جاتا ہے مگر اس کی صحت نہ خدا کے حکم سے تعلق رکھتی ہے نہ کسی طبعی قانون سے بلکہ اتفاق پر مبنی ہوتی ہے- اب میں جھوٹے الہام کے متعلق بیان کرتا ہوں اس کی بھی کئی قسمیں ہیں- (۱)شیطانی الہام- شیطان چونکہ قیاس سے کام لیتا ہے اس لئے اس کا قیاس اکثر اوقات غلط نکلتا ہے- پھر وہ جھوٹ بھی بولتا ہے- (۲)دوسری قسم نفسانی خواب- اس کی آگے پھر کئی قسمیں ہیں- الف( وہ خواب جو دماغ کی خرابی کا نتیجہ ہو (ب)وہ خواب جو خواہش اور آرزو کے نتیجے میں پیدا ہو جائے- جیسے ہمارے ملک میں کہتے ہیں کہ بلی کو چھیچھڑوں کی خوابیں- اس خواب میں اور جبیزی خواب میں بظاہر مناسبت ہے مگر ایک فرق بھی ہے- اور وہ یہ کہ جبیزی خواب تو وہ ہے جو خدا تعالیٰ بندہ کی خواہش کو پوری کرنے کے لئے نازل کرتا ہے مگر اس خواب کو خدا تعالیٰ نازل نہیں کرتا بلکہ انسان کی خواہش سے متاثر ہو کر نفس خود پیدا کر لیتا ہے- (۲)دوسری غلطی لوگوں کو یہ لگی ہوئی تھی کہ الہام یا وحی صرف نبی کو ہو سکتا ہے یہ خیال نہایت غلط اور امت میں پست خیالی پیدا کرنے کا موجب اور قرب الہی کے حقیقی دروازوں کو بند کرنے والا تھا- اس کے نتیجہ میں صرف انسانی تدابیر پر خوش ہو جاتے تھے اور خدا تعالیٰ کے فضل کو جو ایک ہی ذریعہ اس کی خوشنودی کا پتہ لگانے کا ہے بھلا بیٹھے تھے- حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس خیال کی بھی اصلاح کی اور فرمایا کہ الہام ہر شخص کو ہو سکتا ہے- ہاں الہام کے بھی درجے ہوتے ہیں- نبی کو نبیوں والا الہام ہوتا ہے، مومن کو مومنوں والا اور کافر کو کافروں والا- اس حقیقت کو کھول کر آپ نے یہ فتنہ دور فرما دیا کہ غیر مومن کو جب کبھی کوئی سچا الہام ہو جائے تو بعض دفعہ وہ یہ سمجھ لیتا ہے کہ وہ بھی خدا کا مقرب ہے- آپ نے فرمایا- ایسے لوگوں کو سچا الہام ہو جاتا ہے مگر نبیوں اور نیک لوگوں کے الہام اور کفار کے الہام میں یہ فرق ہے کہ نبیوں اور اولیاء کے الہام اپنے ساتھ قدرت رکھتے ہیں- اور یہ بات کفار کے الہاموں کو حاصل نہیں ہوتی- تیسری غلطی یہ لگی ہوئی تھی کہ بعض لوگوں کا خیال تھا کہ الہام لفظوں میں نہیں ہوتا بلکہ