انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 138 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 138

۱۳۸ لینے اور ان کی ہمت ظاہر کرنے کیلئے ہوتی ہے- (۵)پانچویں جبیزی وحی- یہ وحی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہام سے معلوم ہوتی ہے- میں اس الہام کے الفاظ کے مطابق اس کا نام جبیزی وحی رکھتا ہوں- اس کی تفصیل یہ ہے کہ جس طرح کامل مومن کا مقصد خدا تعالیٰ کے قرب کا حصول ہوتا ہے وہ اس قرب کے حصول کے ذریعہ کی تعیین نہیں کرتا- بعض ناقص لوگ اس جدوجہد میں ایک نفسانی خواہش کو بھی ساتھ رکھتے ہیں کہ یہ قرب اس طرح حاصل ہو کہ ہمیں الہام ہو جائے اور الہام کی خواہش بھی قرب کے لئے نہیں بلکہ بڑائی اور درجہ کے حصول کے لئے ہوتی ہے- ایسی صورت میں ان لوگوں کی بڑھی ہوئی خواہش کو دیکھ کر کبھی اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے انہیں بھی الہام کر دیتا ہے- جس طرح کھانا کھاتے وقت کوئی کتا آ جاتا ہے تو اس کے آگے بھی آدمی روٹی کا ٹکڑا یا بوٹی پھینک دیتا ہے- اس قسم کا الہام درحقیقت ایک سخت آزمائش ہوتا ہے جو بسا اوقات ٹھوکر کا موجب ہوتا ہے- جبیز چونکہ سوکھے ٹکڑے کو کہتے ہیں اس لئے اسی مناسبت سے اس وحی کا نام جبیزی وحی رکھا گیا ہے- (۶)چھٹی قسم وحی کی وہ ہے جو ایسے غیر مومن کو ہوتی ہے جو اپنی فطرت میں سعادت رکھتا ہو- اس کا نام میں نے ارشادی وحی رکھا ہے یعنی ہدایت کی طرف راہنمائی کرنے والی- (۷)ساتویں قسم وحی کی طفیلی وحی ہے- کہ کفار اور بدکاروں کو ارشاد کے طور پر نہیں بلکہ ان پر حجت تمام کرنے کیلئے ہوتی ہے- اس کا نام میں نے طفیلی وحی رکھا ہے کیونکہ یہ اس لئے ہوتی ہے کہ انبیاء کی صداقت کے لئے ایک ثبوت ہو- یہ سب آسمانی وحی کی قسمیں ہیں- (ب)شیطانی الہام- جیسا کہ میں اوپر بتا آیا ہوں بعض شیطانی الہام بھی سچے ہوتے ہیں- قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے-الا من خطف الخطفة فاتبعہ شھاب ثاقب ۱۱؎یعنی آسمانی امور جب دنیا میں ظاہر ہونے لگتے ہیں تو شیطان بھی ان میں سے کچھ اچک کر اپنے ساتھیوں کو پہنچا دیتا ہے- اور گو اس کے بطلان کا سامان اللہ تعالیٰ پیدا کر دیتا ہے لیکن ارواح خبیثہ سے تعلق رکھنے والوں کی بعض بعض باتیں بھی کبھی سچی نکل آتی ہیں- حضرت مسیحموعودؑ فرماتے ہیں کہ ایسی خوابیں یا نظارے اگر اتفاقاً کبھی سچے بھی نکل آئیں تو ان میں ہیبت اور شوکت نہیں ہوتی اور نامکمل سے اور مبہم سے ہوتے ہیں-