انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 137 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 137

۱۳۷ مبتلا تھے کہ لفظی الہام کا عقیدہ رکھنا انسان کی ذہنی ترقی کے مانع ہے- (و)عام طور پر لوگ اس غلطی میں مبتلا تھے کہ اب الہام کا سلسلہ بند ہو چکا ہے- یہ اور اس قسم کے اور وساوس الہام کے متعلق لوگوں میں پائے جاتے تھے- حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ان سب کی اصلاح کی ہے- یہ جو خیال تھا کہ الہام صرف آسمانی یا شیطانی ہوتا ہے اس سے کئی خطرناک نتائج پیدا ہو رہے تھے- بعض مدعیوں کو جب لوگ راستباز سمجھتے تو ان کی وحی کو بھی آسمانی سمجھ لیتے- بعض خوابیں جب لوگوں کی پوری نہ ہوتیں تو وہ الہام اور خواب کی حقیقت سے ہی منکر ہو جاتے وغیرہ وغیرہ- آپ نے اس مسئلہ کو حل کر کے دنیا کو بہت سے ابتلاؤں سے بچا لیا- آپ کی کتب سے معلوم ہوتا ہے کہ الہام کی دو بڑی قسمیں ہیں- (۱) سچے الہام (۲)جھوٹے الہام جو سچے الہام ہوتے ہیں- یعنی جن میں ایک صحیح واقعہ یا صداقت کی خبر دی ہوئی ہوتی ہے- آگے ان کی بھی کئی قسمیں ہیں- )الف(آسمانی الہام (ب)شیطانی الہام (ج)نفسانی ا لہام- میں نے سچے الہام میں ان دونوں قسموں کو بھی شامل کیا ہے اور اس کی یہ وجہ ہے کہ حضرت مسیح موعودؑ کے کلام سے ثابت ہوتا ہے اور قرآن کریم اور تجربہ اس کا شاہد ہے کہ کبھی شیطانی اور نفسانی الہام بھی سچا ہوتا ہے اور جب کوئی ایسا الہام سچا ہو جائے تو گو ہم اقرار کریں گے کہ وہ پورا ہو گیا مگر اسے آسمانی الہام پھر بھی نہیں کہیں گے- ان الہامات کی بھی جو آسمانی ہوتے ہیں آپ نے کئی قسمیں بتائی ہیں- (۱)انبیاء کی وحی جو یقینی وحی کہلاتی ہے- (۲)دوسری اولیاء کی مصفی وحی یہ وحی بھی غلط نہیں ہوتی لیکن یقینی نہیں کہلاتی کیونکہ وہ اپنے اندر ایسے نشانات نہیں رکھتی جو دنیا پر حجت ہوں اور جس کا انکار گناہ ہو- وہ بیشک مصفی ہوتی ہے مگر اپنے ساتھ ایسے زبردست ثبوت نہیں رکھتی کہ لوگوں کے لئے اسے حجت قرار دیا جائے- (۳)تیسری سالکوں کی وحی جسے اصطفائی وحی کہہ سکتے ہیں یعنی وہ ان کو بزرگی دینے کیلئے ہوتی ہے- مگر اس قدر صاف نہیں ہوتی جس قدر کہ اولیاء اللہ کی- (۴)سالکوں اور مومنوں کی ابتلائی وحی- یہ وحی مومنوں کے تجربہ، آزمائش اور امتحان