انوارالعلوم (جلد 10) — Page 136
۱۳۶ ساری صفات ایک ہی وقت میں اپنے دائرہ کے اندر کام کر رہی ہوتی ہیں- (۹) نواں غلط عقیدہ خدا تعالیٰ کی ذات کے متعلق یہ پھیل رہا تھا کہ کچھ لوگ خیال کر رہے تھے کہ سب کچھ خدا ہی خدا ہے- آپ کے بتائے ہوئے اصل سے اس عقیدہ کا بھی رد ہو گیا- کیونکہ خدا تعالیٰ کی ایک صفت مالکیت بھی ہے اور جب تک اور مخلوق نہ ہو، خدا مالک نہیں ہو سکتا- اس عقیدہ کے خلاف کچھ ایسے لوگ بھی تھے جو یہ کہتے تھے کہ خدا عرش پر بیٹھا ہوا ہے ان کا رد بھی اس اصل سے ہو گیا- کیونکہ خدا تعالیٰ کی دوسری صفات بتا رہی ہیں کہ خدا تعالیٰ محدود نہیں- عرش کے متعلق آپ نے فرمایا کہ عرش کرسی وغیرہ کے الفاظ کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ مادی اشیاء ہیں- اور عرش کوئی سونے یا چاندی سے بنا ہوا تخت نہیں ہے جس پر خدا بیٹھا ہوا ہے- بلکہ اس کے معنی خدا تعالیٰ کی حکومت کی صفات ہیں اور ان کے ظہور کے متعلق کہا جاتا ہے کہ گویا خدا تعالیٰ تخت پر بیٹھا ہے- (۱۰) ان سب باتوں کے علاوہ ایک اہم کام جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے خدا تعالیٰ کی ذات کے متعلق کیا یہ تھا کہ آپ نے لوگوں کی توجہ خدا تعالیٰ کی طرف پھیری- اور ان میں خدا تعالیٰ کی سچی محبت پیدا کر دی- لاکھوں انسانوں کو آپ نے خدا تعالیٰ کا مقرب بنا دیا اور وہ لوگ جنہوں نے ابھی تک آپ کو نہیں مانا ان کی بھی توجہ خدا تعالیٰ کی طرف اس رنگ میں ہو رہی ہے جو آپ کے دعویٰ سے پہلے نہ تھی- خدا تعالیٰ کی ذات کے متعلق اور بھی بہت سی غلط فہمیاں تھیں جو آپ نے تفصیلاً یا اجمالاً دور کیں مگر مثال کے طور پر مذکورہ بالا امور کو بیان کیا گیا ہے- حضرت مسیح موعودؑ کا چوتھا کام چوتھا کام حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ کیا کہ آپ نے کلام الہٰی کی حقیقت کو ظاہر کیا ہے اور اس کے متعلق جو مختلف خیالات لوگوں میں پھیلے ہوئے تھے ان کی اصلاح کی ہے- اول الہام الہام کے متعلق اور خطرناک خیالات لوگوں میں پھیلے ہوئے تھے- لوگ سمجھتے تھے- (الف) الہام یا آسمانی ہوتا ہے یا شیطانی- (ب)پھر لوگ یہ سمجھتے تھے کہ الہام صرف نبیوں کو ہو سکتا ہے- (ج)بعض لوگ سمجھتے تھے کہ الہام لفظوں میں نہیں ہو سکتا- دل کی روشنی سے حاصل کردہ علوم کا نام ہی الہام ہے- (د)بعض لوگ اس وسوسہ کا شکار ہو رہے تھے کہ الہام اور خواب کیفیت دماغی کا نتیجہ ہوتے ہیں- (ھ)بعض لوگ اس خیال میں