انوارالعلوم (جلد 10) — Page 116
۱۱۶ فلاسفر ہیں ان کے پاس جاؤ اور جا کر سوال کرو کہ حضرت مسیحؑ نے دنیا میں آکر کیا کام کیا تھا؟ تو وہ اس سوال کرنے والے کو پاگل قرار دیں گے اور کہیں گے- وہ مسیح جس نے ایک ہی فقرہ کہہ کر کہ جو کوئی تیرے داہنے گال پر طمانچہ مارے دوسرا بھی اس کی طرف پھیر دے لاکھوں اور کروڑوں انسانوں کی زندگی کو بدل دیا اس کے متعلق یہ پوچھنا کہ اس نے کیا کام کیا پاگل پن نہیں تو اور کیا ہے؟ اس فقرہ کا آج بھی عیسائیوں پر اتنا اثر ہے کہ باوجود بڑے بڑے ظلم کرنے کے ایک نقطہ رحم کا ان میں باقی رہتا ہے اور کم از کم اتنا تو ہے کہ جب کوئی ظلم کرتے ہیں تو بھی اعلان یہی کرتے ہیں کہ فلاں قوم کی بہتری اور بھلائی کے لئے ہم یہ کام کر رہے ہیں- خواہ وہ کسی کی کھال ہی ادھیڑ رہے ہوں- مگر اس کے سر پر ہاتھ پھیرتے جاتے ہیں اور کہتے جاتے ہیں ہم تمہارے فائدہ کے لئے ہی کر رہے ہیں- اس سے معلوم ہوتا ہے کہ رحم کا احساس ان میں ایسا گھر کر گیا ہے کہ ظلم کرتے وقت بھی اس کا اظہار کرتے ہیں- غرض آج سب لوگ مانتے ہیں کہ حضرت مسیحؑ کے ذریعہ ان کے ماننے والوں میں ایک بہت بڑا تغیر پیدا ہوا- اسی طرح اگر یہ سوال بدھ کے متعلق کیا جاتا کہ انہوں نے آکر کیا کیا۔