انوارالعلوم (جلد 10) — Page 115
۱۱۵ میں ان کے ماننے والوں کو بادشاہت مل گئی تھی؟ ان کو تو صرف وعدہ ہی دیا گیا تھا- اور اگر وعدہ سے تسلی ہو سکتی ہے تو ہم بھی ان لوگوں کو جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق سوال کرتے ہیں کہتے ہیں- آپ نے فرمایا ہے- خدا کی بادشاہت دنیا میں قائم ہو جائے گی بلکہ اس سے بھی زیادہ کا وعدہ کیا ہے اور وہ یہ کہ ساری دنیا میں جماعت احمدیہ اس طرح پھیل جائے گی کہ باقی لوگ اتنے ہی تھوڑے رہ جائیں گے جتنے اس وقت خانہ بدوش لوگ ہیں- پس اگر وعدہ تسلی کا موجب ہو سکتا ہے تو اسے ہم بھی پیش کر سکتے ہیں- اور یقین رکھتے ہیں کہ وہ اپنے وقت پر پورا ہو جائے گا- دیکھو اگر حضرت مسیح ناصریؑ کی وفات کے بعد ان کے حواریوں سے لوگ پوچھتے، کہاں ہے وہ بادشاہت جس کا وعدہ دیا گیا ہے؟ اور وہ نہ دکھا سکتے تو کیا حضرت مسیحؑ جھوٹے ثابت ہو جاتے؟ یا پھر حواریوں سے نہیں ان کے بعد آنے والوں سے لوگ پوچھتے- دکھاؤ وہ بادشاہت جس کا مسیحؑ نے وعدہ کیا ہے اور وہ نہ دکھا سکتے تو کیا حضرت مسیحؑ جھوٹے قرار پا جاتے- حضرت مسیحؑ کی امت میں تین سو سال کے بعد حکومت آئی- اگر مادی کامیابی کے لئے دعویٰ بھی دلیل ہو سکتا ہے- تو ہمارا بھی دعویٰ ہے کہ ساری دنیا میں احمدیت پھیل جائے گی- اور اسے دنیوی لحاظ سے بھی شان و شوکت حاصل ہوگی- لیکن اگر کہو کہ یہ دعویٰ ابھی پورا نہیں ہوا- اس لئے دلیل نہیں ہو سکتا تو ہم کہتے ہیں حضرت مسیح ناصریؑ کے وقت میں بھی بادشاہت قائم ہونے کا دعویٰ پورا نہیں ہوا تھا- پھر کیا وہ جھوٹے تھے؟ حواریوں کے وقت میں پورا نہیں ہوا تھا کیا اس وقت حضرت مسیحؑ جھوٹے تھے؟ حتیٰ کہ تین سو سال تک پورا نہ ہوا کیا اس وقت تک حضرت مسیح سچے نہ تھے؟ اگر باوجود اس کے سچے تھے تو پھر حضرت مسیح موعود علیہالصلوۃ والسلام کو کیوں سچا نہیں قرار دیا جاتا؟ جب کہ یہاں بھی ابھی حواریوں کا زمانہ ہی گذر رہا ہے- پس حضرت مسیح ناصری کے متعلق ایسا ٹھوس جواب جیسا کہ آج کل لوگ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق چاہتے ہیں- نہ ان کے وقت میں مل سکا- نہ حواریوں کے وقت- اور نہ تین سو سال کے عرصہ تک- لیکن اب یہی سوال دنیا کے سامنے پیش کرو- اور پھر دیکھو کیا جواب ملتا ہے- اگر آج سے ۱۹ سو سال پہلے حضرت مسیح کا یہ فقرہ دنیا کے سامنے پیش کیا جاتا کہ جو کوئی تیرے داہنے گال پر طمانچہ مارے دوسرا بھی اس کی طرف پھیر دے تو یہ لوگ کہتے )نعوذ باللہ(یہ کس پاگل اور مجنون کا کلام ہے- مگر آج دنیا کے جتنے بڑے بڑے