انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 114 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 114

۱۱۴ وقت جب کہ اسلام میں ورثہ کے متعلق مکمل احکام نہ اترے تھے اگر کوئی سوال کرتاکہ اسلام میں ورثہ کے متعلق کیا احکام ہیں؟ تو کوئی جواب نہ دیا جا سکتا تھا- پس شریعت بھی درحقیقت تکمیل کے بعد ہی پیش کی جا سکتی ہے- اور نبی کی زندگی میں صرف اس قدر کہا جا سکتا ہے کہ اس نے ایسے مسئلے بیان کئے ہیں جو دوسری کتابوں میں نہیں ہیں- مگر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ یہ تعلیم کامل ہو گئی ہے کیونکہ اس وقت تک وہ کامل نہیں ہوئی ہوتی- غرض شرعی نبی کے متعلق بھی یہ مشکل پیش آتی ہے مگر پھر بھی کچھ نہ کچھ احکام جو اس پر نازل ہوئے ہوں پیش کئے جا سکتے ہیں- لیکن جو شرعی نبی نہیں ان کے لئے کیا پیش کیا جا سکتا ہے؟ وہ لوگ جو یہ سوال کرتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کیا کام کیا کہ آپ کا ماننا ضروری قرار دیا جائے- ان سے ہم کہتے ہیں کہ صرف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہی تو مامور اور مرسل نہیں ہیں- آپ سے پہلے ہزاروں مامور گذر چکے ہیں جن کا ذکر قرآن میں اور دوسری کتابوں میں موجود ہے- دو درجن کے قریب انبیاء کا ذکر تو قرآن میں بھی آیا ہے- جن میں سے دو تین کو چھوڑ کر باقی ایسے ہی ہیں- جن پر کوئی شریعت نہ اتری- ہم کہتے ہیں کہ حضرت مرزا صاحب کے متعلق سوال جانے دو- یہ بتاؤ حضرت مسیح ناصریؑ کے زمانہ میں جب انہوں نے دعویٰ کیا کہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے نبی اور رسول ہو کر آیا ہوں اس وقت اگر لوگ ان سے یہ سوال کرتے کہ آپ نے کیا کام کیا ہے؟ تو وہ کیا جواب دیتے؟ یا ان کے حواریوں سے پوچھتے کہ حضرت مسیحؑ کا کام بتاؤ تو وہ کیا بتاتے؟ زیادہ سے زیادہ وہ یہ کہتے کہ حضرت مسیحؑ نے مردوں کو زندہ کیا- مگر میں کہتا ہوں یہ تو کام نہیں نشان اور معجزہ ہے اور ایسے نشان تو ہم حضرت مرزا صاحب کے بھی پیش کرتے ہیں- اگر نبی کے کام سے مراد یہ ہے کہ اس نے دنیا کے فائدہ اور دنیا کی ترقی کیلئے کیا کیا، عقائد اور اعمال کے لحاظ سے، سیاست اور تمدن کے لحاظ سے کونسا فائدہ پہنچایا تو حضرت مسیح ناصریؑ اس کا کیا جواب دیتے- پھر ان کے بعد حواری اس کے جواب میں کیا کہتے؟ ان کے جواب کو تو جانے دو، آج جب کہ حضرت مسیحؑ کو گزرے انیس سوسال ہو گئے ہیں آج جا کر عیسائیوں سے پوچھو کہ حضرت مسیحؑ نے کیا کام کیا؟ تو ان کا بڑے سے بڑا جواب یہی ہوگا یسوع مسیح نے دنیا میں محبت کی تعلیم قائم کی اور کہا-: ’’جو کوئی تیرے داہنے گال پر طمانچہ مارے دوسرا بھی اس کی طرف پھیر دے‘‘- ۲؎ یا یہ کہ خدا کی بادشاہت قائم کرنے کا وعدہ کیا تھا- مگر سوال یہ ہے کہ کیا حضرت مسیحؑ کے زمانہ