انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 113 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 113

۱۱۳ رنگ میں پیش نہ کیا جائے کہ دنیا ان کا فائدہ سمجھ سکے تو وہ نشانات بھی اثر نہیں کرتے- پس اس سوال کا جواب دینا نہایت ضروری ہے- یہ سوال جب کیا جاتا ہے کہ حضرت مرزا صاحب نے کیا کام کیا؟ تو بسا اوقات سوال کرنے والے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ کوئی ٹھوس چیز اس کے ہاتھ میں دے دیں وہ ایسی شہادت چاہتا ہے جیسی کہ صرف مادیات میں مل سکتی ہے روحانیات میں نہیں- یا لوگ اس بات کی کوشش کرتے ہیں کہ وقت سے پہلے نتیجہ نکال لیں وقت ابھی آتا نہیں مگر وہ پوچھتے ہیں کیا نتیجہ نکلا؟ ایسے لوگوں کی وہی مثال ہوتی ہے کہ ایک شخص کہے- چونکہ میرے ہاں اولاد نہیں ہے اس لئے میں اولاد کے لئے دوسری شادی کرتا ہوں- اور جس دن وہ دوسری شادی کرے اس کے دوسرے دن صبح ہی اس کے دوست اس کے ہاں پہنچ جائیں- اور السلام علیکم کے بعد پوچھیں اولاد ہوئی ہے یا نہیں؟ وہ کہے ابھی تو نہیں ہوئی- تو وہ کہیں پھر شادی کیوں کی تھی؟ شادی کا جلد سے جلد نتیجہ نو ماہ کے بعد نکل سکتا ہے اور اگر اس عرصہ کو کم سے کم بھی کر دیا جائے تو بھی سات مہینہ میں نتیجہ نکل سکتا ہے- اتنا انتظار کرنا ضروری ہوتا ہے- پس کسی کام کے لئے جو وقت مقرر ہے اس سے پہلے نتائج کا مطالبہ کرنا غلطی ہے- دراصل اس قسم کا سوال کرنے والوں کو عام طور پر دو غلطیاں لگتی ہیں- ایک تو یہ کہ جو سوال کرتے ہیں وہ ٹھوس مادی جواب چاہتے ہیں- مثلاً کہتے ہیں- یہ بتاؤ مسلمانوں کی حکومت کہاں کہاں قائم ہوئی؟ یا یہ کہ کتنے کافروں کو مارا ہے- کتنی غیر مسلم سلطنتوں کو شکست دی ہے- غرض وہ یا تو چاندی سونے کے یا مردوں کے ڈھیر دیکھنا چاہتے ہیں- دوسری غلطی یہ لگتی ہے کہ بے موقع نتائج تلاش کرتے ہیں- حالانہ کسی نبی کے متعلق اس قسم کا سوال ایسا باریک ہوتا ہے کہ اگر وہ اسے پہلے انبیاء پر چسپاں کریں تو انہیں معلوم ہو کہ اس سے باریک سوال اور کوئی نہیں ہو سکتا- جو انبیاء شریعت نہیں لائے ان کے متعلق تو خصوصاً یہ نہایت باریک سوال ہے- مثلاً رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت اگر کوئی یہ سوال کرتاکہ آپ نے کیا کیا؟ تو اس وقت پیش کیا جا سکتا تھا کہ آپ پر اتنی سورتیں اتری ہیں- اول تو یہ جواب بھی ایسے لوگوں کیلئے تسلی بخش نہیں ہو سکتا- کیونکہ ایک ہی وقت میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر مکمل شریعت نہ اتری تھی- چند احکام اترے تھے اور جب تک مکمل شریعت نہ اتری تھی۔اس وقت تک اسلام کے متعلق بھی یہی کہا جا سکتا تھا- جس طرح آج سکھوں اور بہائیوں کے متعلق کہا جاتا ہے کہ تمہارے پاس تو مکمل شریعت نہیں ہے۔اس