انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 87 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 87

۸۷ وہی آئندہ کرے گا۔اس فتنہ کی تفصیل یہ ہے کہ جیسا کہ ہمارے دوستوں نے اخبار میں پڑھا ہو گا۔ایک مقدمہ پچھلے دنوں میرے خلاف کیا گیا کہ گویا میں نے آدمی مقرر کئے تھے کہ بعض لوگوں کو مروا دوں۔یہ وہ لوگ تھے جو مشین سیویاں کی دکان سے تعلق رکھتے ہیں اور انہیں کی طرف سے یہ مقدمہ کیا گیا تھا۔دوسرا مقدمہ یہ تھا کہ آئندہ کے لئے میری ضمانت لی جائے۔یہ مقدمہ مجھ پر اور محمد امین خانصاحب پر تھا۔اس کے بعض حصوں میں چوہدری فتح محمد صاحب اور نیک محمد خاں صاحب افغان کو بھی شامل کیا گیا۔مجھے ان لوگوں کے واقعہ پر اس اندھے کی مثال یاد آتی ہے جو ایک سوجاکھے کے ساتھ کھانا کھانے بیٹھا تھا۔اندھے نے یہ سمجھا کہ سوجا کھا جلدی جلدی کھانا کھاتا ہوگا۔یہ خیال کر کے اس نے بھی جلدی جلدی کھانا شروع کیا۔پھر اس نے سمجھا میرا جلدی جلدی کھانا تو اس نے دیکھ لیا ہو گا اور اس پر اس نے مجھ سے بھی زیادہ جلدی کھانے کی کوئی اور ترکیب نکالی ہوئی مجھے بھی کوئی اور طریق اختیار کرنا چاہے اس پر وہ دونوں ہاتھوں سے کھانے لگ گیا۔پھر اسے خیال آیا یہ بات بھی اس نے دیکھ لی ہو گی اور اب اس نے کوئی اور ڈھنگ نکالا ہو گا مجھے بھی کچھ اور کرنا چاہئے۔اس پر اس نے ایک ہاتھ سے کھانا شروع کیا اور دوسرے ہاتھ سے دامن میں ڈالنے لگ گیا مگر اس پر بھی اس کی تسلی نہ ہوئی اور اس نے سمجھا اس طرح بھی میں پیچھے رہ جاؤں گا مگر کوئی اور ترکیب اسے یاد نہ آئی اس پر وہ کھانے کا برتن پکڑ کر بیٹھ گیا کہ تم نے کھالیا ہے اب میرا حصہ ہے۔یہی حال ان لوگوں کا تھا مگر ان کو کیا معلوم کہ جو لوگ یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ خدا تعالی سب قدر تیں رکھتا ہے اور وہ اپنے بندوں کی خود حفاظت کرتا ہے انہیں کوئی ناجائز طریق اختیار کرنے کی کیا ضرورت ہے۔قتل کرانا تو بڑی بات ہے میں نے ان کے لئے کبھی بد دعا بھی نہیں کی مگر انہوں نے اپنے اوپر قیاس کیا۔پچھلے دنوں بعض وجوہ سے جو خیالی طور پر گھڑی گئیں ان میں یہ خیال پیدا ہوا کہ ان کے خلاف کوشش کی جارہی ہے ان لوگوں نے بعض ایسی وجوہات سے جو اخبار میں بھی بیان کر دی گئی ہیں کئی قسم کی ناجائز حرکات کیں۔ان کو ایک تو اس بات کا غصہ تھا کہ ان میں سے ایک کی شادی اس جگہ نہ ہوئی جس جگہ شادی کرانے کے لئے وہ کہتا تھا پھراسی جگہ اس کے داماد نے شادی کرلی۔جو لوگ اخلاق میں گر جاتے ہیں وہ اپنے بُغض کا بدلہ غیر اخلاقی طور پر لینے کے درپے ہو جاتے ہیں اس وجہ سے انہوں نے ایسی باتیں کرنی شروع کیں جو الزامات اور اتہامات سے تعلق رکھتی ہیں۔مجھے جب اس کے متعلق اطلاع ہوئی تو میں نے باپ بیٹے کو بلایا اور کھانا ہے تم لوگ