انوارالعلوم (جلد 10) — Page 86
روس کی تبلیغ میں گو وقفہ پڑ گیا ہے مگر پچھلے سال وہاں کے مبلّغ محمد امین خان صاحب کے متعلق جو خطرہ تھا وہ دور ہو گیا ہے اور وہ یہاں بخریت آگئے ہیں صوفی غلام محمد صاحب بھی اسی سال ماریشس سے واپس آئے ہیں جہاں وہ گیارہ سال رہے جب وہ گئے تھے اس وقت وہاں ایک احمدی تھا مگر اب خدا کے فضل سے ہزار کے قریب ہیں اور کئی جگہ انہوں نے اپنی مساجد بنالی ہیں ان خوشیوں کے ساتھ ایک رنج کی بات کا بھی ذکر کرتا ہوں۔یہ خدا تعالی کی سنت ہے کہ خوشی کے ساتھ رنج بھی ہوتا ہے اور چار خوشیوں کے ساتھ ایک رنگ کا ہونا تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کی تحریر سے بھی ثابت ہے جیسا کہ آپ فرماتے ہیں۔غموں کا ایک دن اور چار شادی ہماری ان فتوحات اور کامیابیوں کو دیکھ کر جو خداتعالی نے عطا کیں وہ لوگ جن سے سلسلہ کی عظمت نہیں دیکھی جاتی فتنے کھڑے کرنے میں لگ گئے تاکہ ہمیں کچل دیں مگر جسے خدا رکھے اسے کون کچل سکتا ہے۔ایسی باتیں الہٰی سلسلوں کے ساتھ خدا تعالی کی سنت کے ماتحت لگی ہی رہتی ہیں ان سے گھبرانا نہیں چاہئے۔ہمارا فرض کام کرنا ہے دشمنوں کی شرارتوں سے گھبرانا ہمارا کام نہیں جو چیز خدا تعالی کی ہو اسے وہ خود غلبہ عطا کرے گا۔عبد المطلب رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دادا کا واقعہ لکھا ہے کہ گورنر یمن نے مکہ پر اس لئے حملہ کیا کہ اس معبد کو توڑ دوں لیکن مکہ پہنچ کر اس کے خیال میں نرمی پیدا ہو گئی اور مکہ والوں کو اس نے کہلا بھیجا کہ اپنے میں سے بڑے بڑے آدمیوں کو بھیجو میں ان سے باتیں کرنا چاہتا ہوں۔انہوں نے عبدالمطلب کو بھیجا جنہوں نے اس سے ایسی معقول گفتگو کی کہ وہ بہت متاثر ہوا۔اس پر اس نے کہا آپ مجھ سے کچھ مانگنا چاہیں تو مانگیں اس سے اس کی غرض یہ تھی کہ وہ کہیں گے مکہ پر حملہ کرنا چھوڑ دو اور میں چھوڑ دونگا۔اس طرح میری عزت رہ جائے گی مگر انہوں نے کہا میرا سَو(۱۰۰) اونٹ پھر رہا تھا جسے آپ کے آدمیوں نے پکڑ لیا ہے وہ چھوڑ دیں۔یہ سن کر اس نے کہا میرے دل میں آپ کی پہلی گفتگو سے بڑی وقعت پیدا ہوگئی تھی مگر اب بد ظنی پیدا ہو گئی ہے کہ آپ کیسے ادنی ٰ خیال کے آدمی ہیں۔انہوں نے کہا میں ادنی ٰ خیال کا آدمی نہیں ہوں میں نے تو آپ کو یہ بتایا ہے کہ جب مجھے اپنے اونٹوں کا فکر ہے تو کعبہ جو خدا کا گھر ہے کیا اس کی خدا کو فکر نہ ہو گی وہ خود اسے بچائے گا اور اس کی حفاظت کے سامان پیدا کرے گا۔غرضی اللہ تعالیٰ اپنی چیزوں کی آپ حفاظت کرتا ہے۔اگر سلسلہ احمدیہ کسی بنده کا سلسلہ ہوتا تو اتنا کہاں چل سکتا تھا۔یہ خدا کاہی سلسلہ ہے وہی اس کی پہلے حفاظت کرتا رہا ہے اور