انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 82 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 82

۸۲ رکیں گے اس وقت تک امن نہیں ہو سکتا۔اس تحریک کے علاوہ اس سال جو تبلیغی کام ہوا ہے وہ بہت اعلیٰ درجہ کا ہے ابھی کچھ دن ہوئے دو بڑے تبلیغی دورے ہوئے ہیں۔مفتی محمد صادق صاحب کو لمبو گئے وہاں سے بنگال، مدراس، مالابار اور یو۔پی میں کئی بڑے بڑے مقامات پر انہوں نے لیکچر دیئے گویا سوائے سندھ کے انہوں نے سارے ہندوستان کا دورہ کیا اور آٹھ ہزار میل سفر کیا۔۲۴ ہزار میل ساری دنیا کے چکر کا فاصلہ بتایا جاتا ہے مفتی صاحب اس کے تیسرے حصہ میں پھر آئے۔دوسرا دورہ مولوی عبدالرحیم صاحب نیّر نے کیا ہے جو حیدر آباد دکن گئے تھے۔ان دوروں سے معلوم ہوتا ہے کہ احمدیت کے متعلق لوگوں کے دلوں میں جو بُغض تھاوہ دور ہو رہا ہے کو لمبو میں احمدیوں کی سخت مخالفت کی جاتی تھی ہمارے کئی آدمیوں کو احمدی ہونے کی وجہ سے زخمی کیا گیا مگر اب مفتی صاحب کے وہاں کئی لیکچر ہوئے جو غیر احمدیوں نے اپنے خرچ اور اپنے انتظام سے کرائے اور وہاں سے کئی خطوط آئے ہیں کہ اگر مفتی صاحب پندرہ بیس دن اور وہاں ٹھہر جاتے تو بہت سے لوگ جماعت میں داخل ہو جاتے۔غرض تبلیغی طور پر بھی بہت کامیابی ہوئی ہے اور اب سامان پیدا ہو گئے ہیں کہ مستقبل قریب یا بعید میں ان کے بہت اچھے نتائج رونما ہونگے۔انگریزی ترجمہ قرآن ۲۳ پاروں تک ہو چکا ہے اور اگر خدا تعالی چاہے تو اگلے سال مکمل ہو جائے گا۔اردو ترجمہ قرآن کے نوٹ بھی درست کر کے لکھے جارہے ہیں انشاء الله دس پارہ تک کے نوٹ اگلے سال شائع ہو سکیں گے۔چونکہ اس سال ہنگامی کاموں کی وجہ سے مجھے خاص طور پر مضامین لکھنے پڑے اور سلسلہ کے کاموں کی نگرانی بھی کرنی ہوتی ہے اس لئے ترجمہ کا کام زیادہ نہ کر سکا اور تین ماہ کے قریب تو صحت بھی اچھی نہیں رہی۔ادنی ٰ اقوام میں تبلیغ کرنے کے بھی خدا تعالی نے ایسے سامان پیدا کر دیئے ہیں کہ اس پہلوسے بھی زور سے کام کرنے کا موقع ملا ہے۔پچھلے دو مہینہ میں ہی تیس کے قریب ایسے لوگ مسلمان ہوئے ہیں اور نو مسلموں کی تعداد روز بروز بڑھ رہی ہے اسی جلسہ پر تین چار آدمی مسلمان ہوئے ہیں۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہماری پچھلی کوششوں کے نتائج اب ظاہر ہونے لگے ہیں۔ملکانوں کی حالت کی جس حد تک اصلاح ہو چکی ہے اس کا اندازہ اس ملکانا بچہ کی تقریر سے لگایا جاسکتا ہے جس نے ابھی تقریر کی ہے۔شردہانند جی نے کہا تھا گیارہ لاکھ ملکالنے پرندے کی طرح چونچ کھولے منتظر ہیں کہ ان کے منہ میں آریہ دانہ ڈالیں۔ان دکانوں میں سے ایک چونچ سے نکلی ہوئی آواز تو