انوارالعلوم (جلد 10) — Page 81
۸۱ کی وجہ سے مشہور ہے۔اس گاؤں کے دو آدمی پاخانہ پھر رہے تھے باتیں کرنے والوں کی باتیں سن کر وہ اسی طرح ننگے کھڑے ہو گئے اور کہنے لگے وہ زمانہ گزر گیا جب اس گاؤں میں بے وقوف بستے تھے اب تو یہاں کا بچہ بچہ عقل مند ہے۔یہ سن کر انہوں نے کہا تم بیٹھ جاؤ ہم نے سمجھ لیا ہے کہ یہاں کوئی بے وقوف نہیں ہے۔اب کہاتو یہ جاتا ہے کہ اگلے زمانہ میں مذہب میں جب کیا جاتا تھا اب کسی پر کوئی جبر نہیں کرتا مگر حالت یہ ہے کہ سکھ مسلمانوں کے خلاف، ہندو سکھوں کے خلاف، مسلمان ہندوؤں کے خلاف، ہندو مسلمانوں کے خلاف یہ کہہ رہے ہیں کہ تم یہ نہ کرو وہ نہ کرو کیونکہ اس سے ہمارے دل دکھتے ہیں اور ہمیں تکلیف ہوتی ہے۔اور جب دوسرا فریق اس دخل اندازی کو پسند نہیں کرتا تو پھر دست اندازی اور فساد کا پہلو اختیار کیا جاتا ہے یہ جبر نہیں تو اور کیا ہے۔جب تک ایک دوسرے کے خلاف یہ جبر ترک نہ کیا جائے گا اس تعدّی کو چھوڑا نہ جائے گا اس ظلم سے ہاتھ نہ اٹھایا جائے گا زبردستی دوسروں کے مذہب میں دخل دینے سے باز نہ رہا جائے گا اس وقت تک امن نہ ہو گا۔وہ لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ بیسویں صدی میں مذہبی جبر مٹ گیا ہے اور ہر ایک کو اپنے مذہب میں آزادی حاصل ہے وہ ہندوستان کے ہر قصبہ اور ہر شہر میں دیکھیں کہ کس قدر جبر ہو رہا ہے اور یہ جبر وہ لوگ کر رہے ہیں جو کئی کئی گھنٹے جبر کے خلاف تقریریں کرتے رہتے ہیں۔کسی صاحب نے لکھ کر دیا ہے کہ گائے چونکہ ہندوؤں کی پرستش میں داخل ہے اس لئے وہ اس کا گوشت کھانے سے مسلمانوں کو روکتے ہیں۔اگر پرستش میں داخل ہونے سے ہندوؤں کو یہ حق حاصل ہے تو پھر ان کی پرستش میں تو سانپ بھی داخل ہے ہندو اس کی پرستش کرتے ہیں کیا ہمیں یہ حق ہے کہ مسلمانوں سے بھی کہیں کہ جہاں سانپ نظر آئے اس کے آگے ہاتھ جوڑ کر بیٹھ جایا کرو۔گائے کی پرستش کرتے ہیں وہ کریں ہم سے کیوں کراتے ہیں؟ وہ ہماری مسجدوں کے سامنے باجے اور ڈھول بجائیں اور ۲۴ گھنٹے صبح سے شام اور شام سے صبح تک بجاتے ہیں ایک ڈھول پھٹ جائے تو دوسرا بجانا شروع کردیں دوسرا پھٹ جائے تو تیسرالے لیں ہم انہیں منع نہیں کریں گے۔بات یہ ہے کہ اگر ہندوؤں کو مسجدوں کے پاس ڈھول اور باجے بجانے سے نہ روکا جائے تو وہ خودہی بجانا چھوڑ دیں۔یہاں قادیان میں ہم کسی کو نہیں روکتے مگر وہ خود ہی بند کر دیتے ہیں۔کئی باتیں ضد کی وجہ سے کی جاتی ہیں اگر ہندو مسلمانوں سے جبراً گائے کا گوشت نہ چھڑائیں تو کئی مسلمان خود ہی چھوڑ دیں غرض جب تک ایک دوسرے کے مذہبی معاملات میں دخل دینے سے نہ