انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 52 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 52

۵۲ اس امر پر زور ہونا چاہئے کہ اس حق کو ہندوستان کے اساسی قانون میں داخل کیا جائے اور جب تک مسلمان قوم بہ حیثیت قوم راضی نہ ہو اس میں کوئی تبدیلی نہ کی جا سکے۔چوتھے پنجاب اور بنگال اور جو آئندہ صوبے بنیں جن میں مسلمانوں کی آبادی زیادہ ہو ان میں مسلمانوں کو اس قدر حقوق دیئے جائیں کہ ان کی کثیر التعداد قليل التعداد نہ ہو جائے اس وقت بنگال کے چھپن فی صدی مسلمانوں کو چالیس فیصدی حق ملا ہوا ہے اور پنجاب کے پچپن فی صدی کو قریباً پینتالیس فی صد گ۔اس کا نتیجہ یہ ہے کہ مسلمان کسی صوبے کو بھی اپنا نہیں کہہ سکتے اور آزاد ترقی کے لئے ان کے لئے کوئی بھی راستہ نہیں کھلا۔پانچویں صوبہ سرحدی میں اصلاحی طریق حکومت کے لئے کوشش ہونی چاہئے اور سندھ کے متعلق یہ کوشش ہونی چاہئے کہ وہ بمبئی سے الگ کیا جا کر ایک مستقل صوبہ قرار دیا جائے۔چھٹے کامل مذہبی آزادی :۔اس امر کو اساسی قانون میں داخل کرنا چاہئے کہ کوئی دوسری قوم آزادی کے کسی مرتبہ پر بھی کسی ایسے امر کو جو کسی دوسری قوم کی مذہبی آزادی سے تعلق رکھتا ہو محدود نہیں کر سکے گی۔خوام براہ راست مذہبی اصلاح کے نام سے خواہ تمدنی اور اقتصادی اصلاح کے نام سے بلکہ ہر قوم کی اقتصادی اور تمدنی اصلاح خود اس کے منتخب شدہ ممبروں کے اختیار میں رہنی چاہئے۔ساتویں تبلیغ ہر وقت اور ہر زمانہ میں قیود سے آزاد رہے گی۔اور اسے کسی رنگ میں روکا نہیں جائے گا۔مثلا ًیہ شرط لگا کر کہ مجسٹریٹ کی اجازت سے کوئی شخص مذہب بدل سکتا ہے۔و غير دذلک- اس قسم کی قیود سے پہلے مختلف ملکوں میں تبلیغ کو روکا گیا ہے اور خطرہ ہے کہ ہندوستان میں بھی ہندو لوگ ایسا ہی کریں۔آٹھویں زبان کا سوال یعنی زبان کو کبھی قانوناً نہیں بدلا جائے گا۔مسلمانوں کو اردو زبان میں تعلیم حاصل کرنے کی پوری اجازت ہو گی۔اور جن صوبوں میں اردو رائج ہے ان میں اردو زبان بطورقانونی زبان ہمیشہ کے لئے قائم رہے گی۔زبان کا سوال کسی قوم کی ترقی کے لئے اہم سوال ہوتا ہے پس اس کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئے۔یورپ میں بعض سخت جان قوموں کو ان کی زبانیں بدل کر ہی بند کیا گیا ہے۔پس کچھ تعجب نہیں کہ کسی دن ہندوؤں کی طرف سے بھی ایسی ہی کوشش ہو۔ان کے علاوہ اور بھی بہت سے امور ہیں لیکن یہ اہم امور ہیں جن کو نظر انداز نہیں کرنا