انوارالعلوم (جلد 10) — Page 605
۶۰۵ ایک طالب علم سے ملا جو مصر میں تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے گئے ہوئے تھے اور جو آج کل مدرسہ احمدیہ کے ہیڈ ماسٹر ہیں- انہوں نے اس شخص کو سوال کا جواب سمجھایا اور کہا یہ جواب پادری کے سامنے پیش کرنا- چنانچہ وہ شخص پادری زویمر کے پاس گیا اور اسے جواب سنایا- پادری صاحب گھبرا کر کہنے لگے کیا تم کسی قادیانی سے تو مل کر نہیں آئے، اب یہاں نہ آنا- غرضیکہ یہ لوگ اب احمدیوں کا مقابلہ نہیں کر سکتے- پس احمدیت کی اشاعت بزدلی سے نہ کرو بلکہ جرات اور بہادری سے کرو- یہ مطلب نہیں کہ گورنمنٹ کے قوانین کی خلاف ورزی کرنی شروع کر دو بلکہ یہ ہے کہ گورنمنٹ سے مل کر کام کیا جائے- ہم پنجاب میں رہتے ہیں وہاں گورنمنٹ سے ملکر کام کرتے ہیں مگر ڈرتے نہیں- اگر ہماری جماعت دوسروں پر ظاہر کر دے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک خزانہ ہے تو پھر کون ہے جو انکار کرے اور خزانہ کو رد کر دے- میں پھر کہتا ہوں کہ یہ سوال ہی غلط ہے کہ ہم ان پڑھ ہیں- آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم امی تھے مگر سب دنیا کو آپ نے تعلیم دی- پس خدا کا فضل حاصل کرو، پھر سب کچھ پا لو گے- نیکی اور تقویٰ میں ترقی کرو پھر کسی کتاب کے پڑھنے کی ضرورت نہیں- اصل چیز خدا کی محبت ہے، اسے پیدا کرو- پڑھائی صرف ‘’سونے پر سہاگہ’‘ کا کام دیتی ہے- اگر کتابی علم سے کچھ بنتا تو پھر اسلام نہ پھیلتا کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم امی تھے- عرب لوگ امی تھے، مگر دیکھو ان امیوں نے کس طرح اسلام پھیلایا- پہلے بزرگ مختلف پیشے اختیار کر کے اسلام کو پھیلایا کرتے تھے- وہ امی تھے اپنا کام کرتے تھے مگر خدا کی محبت ان میں موجزن تھی اس لئے وہ اسلام کی راہ میں تکلیف اٹھا کر بھی اسلام پھیلاتے تھے- پس کوشش کرو کہ حق دنیا میں پھیل جائے اور اس وقت تک آرام نہ کرو جب تک حق تمام دنیا تک نہ پہنچ جائے- اپنے نفوس میں اصلاح کرو اور اپنی حالت درست کرو- اللہ تعالیٰٰ آپ لوگوں پر اپنے فضل نازل کرے گا اور لوگوں کے قلوب میں الہام کرے گا تا کہ وہ آپ کی مدد کریں اور ہاتھ بٹائیں- اللہ تعالیٰ کے فضل سے آسنور کے علاقہ کے کچھ طلباء قادیان تعلیم حاصل کرنے کے لئے گئے ہوئے ہیں- ایک ان میں سے فارغ التحصیل ہونے والا ہے- ارادہ ہے کہ اگر اللہتعالیٰ چاہے تو اسے اس علاقہ میں مقرر کیا جائے- اس کے بعد اور طالب علم جوں جوں تیار ہوتے جائیں، انہیں اس علاقہ میں تبلیغ کے کام پر لگایا جائے تا کہ وہ اپنے علاقہ کو سنبھالیں- مگر