انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 606 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 606

۶۰۶ قبل اس کے کہ ایسا ہو آپ لوگوں کو اپنی سستیوں اور کوتاہیوں کو دور کرنا چاہئے- آج ہی مجھ سے شکایت کی گئی ہے کہ عام طور پر لوگ چندہ نہیں دیتے- میں نے کہا چندہ لینے والے بھی آپ لوگ ہیں اور دینے والے بھی آپ ہی- ہم اس بارے میں کیا کر سکتے ہیں- جب تک کسی کو دین کے لئے خرچ کرنے کا خود شوق نہ ہو دوسرے کیا کر سکتے ہیں- ہاں یہ سیدھی اور پکی بات ہے کہ جب کوئی جماعت بوجھ اٹھانے کے لئے تیار ہوتی ہے تو اسے بیرونی مدد بھی حاصل ہو جاتی ہے- ایسے تمام علاقے جن کی زبان علیحدہ ہے مگر ہندوستان کا ہی حصہ ہیں ان کے متعلق یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ ان کے چندہ کا ایک حصہ انہیں کے علاقہ میں خرچ کیا جائے- گذشتہ مجلس مشاورت میں یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ ایسے علاقوں کا چندہ ۲۵فیصدی انہی میں خرچ کیا جائے- باقی مرکز میں بھیجا جائے- اور جو دوسرے ممالک ہیں وہاں کا ۷۵ فیصدی چندہ وہیں خرچ ہو اور ۲۵ فیصدی مرکز میں بھیجا جائے- مرکز میں چندہ بھیجنے کی اس لئے ضرورت ہے کہ وہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا قائم کردہ لنگر خانہ ہے دفاتر ہیں جو ساری جماعت کے انتظامی امور سرانجام دیتے ہیں ان کے اخراجات کے لئے چندہ کی ضرورت ہے- اس علاقہ کی جماعتیں اگر باقاعدہ چندہ دیں تو اس میں سے ۲۵ فیصدی یہاں خرچ کیا جا سکتا ہے جس سے کئی مدرسے چل سکتے ہیں اور مبلغ رکھے جا سکتے ہیں- پھر ہر احمدی کو تبلیغ میں حصہ لینا چاہئے- پنجاب میں احمدیت اسی طرح پھیلی کہ سینکڑوں آدمی اس کے لئے کوشش کر رہے ہیں اور ۸۰ فیصدی چندہ پنجاب کا ہوتا ہے جس سے کئی کام کرنے والے مقرر کئے جاتے ہیں اسی طرح کشمیر میں بھی ہو سکتا ہے- موجودہ جماعت تبلیغی اخراجات برداشت کرے اور جوں جوں جماعت بڑھتی جائے، آمد بھی بڑھتی جائے جس سے کئی مبلغ رکھے جائیں اور کئی مدرسے بنائے جا سکیں- مگر پہلے انہی لوگوں کو سارا بوجھ اٹھانا چاہئے جو اس وقت احمدیت میں داخل ہیں- میں جماعت کے لوگوں کو اس طرف خاص طور پر توجہ دلانا چاہتا ہوں خواہ کوئی تاجر ہو یا واعظ، زمیندار ہو یا گورنمنٹ کا ملازم، خواہ کوئی چھوٹا ہو یا بڑا ہر ایک کو سب سے اول اپنے نفس کی اصلاح کرنی چاہئے اور لوگوں کے سامنے اپنا ایسا نمونہ پیش کرنا چاہئے کہ جو کوئی دیکھے پکار اٹھے- خدا رسیدہ لوگ ایسے ہوتے ہیں- اگر ایسی حالت ہو جائے تو پھر دیکھ لو احمدیت کی ترقی کے لئے کس طرح رستہ کھل جاتا ہے اور کتنی جلدی ترقی ہوتی ہے- لیکن یہ حالت نہ