انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 603 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 603

۶۰۳ کے حق میں دعا ہی کروں گا- باوجود ایسے خطرناک مظالم کے پھر بھی اس ملک میں جماعت ترقی کر رہی ہے- اب جب کہ امیر امان اللہ خان اپنے ملک کو چھوڑ کر روما )اٹلی) میں پہنچ چکے ہیں ان کے ایک وزیر کی چٹھی میرے نام سیلون سے آئی ہے کہ میں جب افغانستان میں تھا تو احمدیت کی تبلیغ کیا کرتا تھا- اب ولایت جا رہا ہوں، واپسی پر افغانستان میں آ کر پھر تبلیغ کروں گا- خدا کی گرفت سے بڑھ کر کسی کی گرفت نہیں ہو سکتی- امان اللہ خان کے ان بے جا مظالم پر خدا کی گرفت ہوئی- اس نے لڑ کر ملک کو انگریزوں سے آزاد کرایا تھا اس وجہ سے قوم اس کی بہت ممنون تھی اور اس کی بہت عزت کرتی تھی مگر یکدفعہ حالات بدلے اور وہ عزت جو اسے حاصل تھی ذلت کے رنگ میں بدل گئی اور اب جس حال میں امان اللہ خان ہیں وہ دنیا سے پوشیدہ نہیں- غرضیکہ احمدیت ہر ملک میں پھیلتی جاتی ہے- اس علاقہ میں بھی احمدیت پھیلی ہے- یاڑی پورہ، گنج پورہ، آسنور، رشی نگر، بنڈہ پور وغیرہ دیہات میں ہزاروں احمدی ہیں مگر باقی علاقوں کی نسبت کم ہیں- اس کی وجہ یہ ہے کہ اس ملک میں تعلیم کم ہے- حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تو یہاں نہیں آئے- یہاں حق کی آواز پہنچی اور لوگوں نے قبول کی- پھر وہ مرکز میں پہنچے اور صداقت کو معلوم کیا اور اس پر قائم ہو گئے اور واپس آ کر دوسرے لوگوں تک اس صداقت کو پہنچایا اور اس طرح صداقت پھیلتی گئی- یاد رکھو! خدا کی طرف سے آنے والا برکات کے ساتھ آتا ہے- گو حضرت مسیح موعود علیہ السلام شریعت کی نئی کتاب نہیں لائے اور نہ نیا کلمہ جاری کیا ہے- وہی نمازیں ہیں، وہی روزے ہیں جن کا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تھا مگر آپ کے ساتھ برکات کا نزول ہوا جن سے بہتوں کو فائدہ ہوا- کشمیر کی جماعتوں کے متعلق جب میں غور کرتا ہوں تو افسوس آتا ہے کہ انہوں نے نمایاں ترقی نہیں کی جس کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ انہوں نے تبلیغ کرنا چھوڑ دیا ہے- میں سمجھتا ہوں کوئی شخص سری نگر جائے اور اس سے راجہ صاحب مصافحہ کریں تو وہ ہر جگہ اس کا ذکر کرے گا لیکن جب خدا تعالیٰ کے نائب نے دنیا کو آواز دی اور تم لوگوں نے اس پر لبیک کہا اور اس کے سلسلہ میں داخل ہوئے جسے خدا دنیا میں عزت دینا چاہتا ہے تو پھر کیا وجہ ہے کہ تم حق کی آواز دوسروں تک نہیں پہنچاتے- افسوس ہے کہ یہاں کی جماعتوں نے اس کی پوری قدر نہ کی- آج نہیں تو آنے والی نسلیں تمہارے کپڑوں تک سے برکت حاصل کریں گی جیسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آپ کے پیرؤوں سے لوگ برکات حاصل کرتے رہے-