انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 602 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 602

۶۰۲ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں نفی کرتا ہے- پھر عیسائی کہتے ہیں وہ جو زندہ ہے، آسمان پر ہے، مردوں کو زندہ کرتا تھا، پرندے پیدا کرتا تھا، ہم اسے مانیں اور اسے نجات دہندہ قرار دیں یا اسے جو زندہ نہیں نہ آسمان پر ہے اور نہ مردوں کو زندہ کرتا تھا نہ کوئی چیز اس نے پیدا کی- اس مقابلہ میں مسلمان کے پاس کوئی حقیقی جواب نہیں ہوتا اور وہ مجبور ہوتا ہے کہ عیسائیت اختیار کرے، عیسیٰ کی خدائی کو تسلیم کرے، کیونکہ جن باتوں کو وہ پہلے سے مانتا چلا آتا ہے عیسائی وہی باتیں اس کے سامنے رکھتے ہیں اور وہی باتیں ہیں جو عیسیٰ علیہ السلام کی خدائی کو مستلزم ہیں- بر خلاف اس کے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت قائم کی اور حقیقت اسلام کو لوگوں کے سامنے رکھا، باطل کی آمیزش کو دور کیا اور خدائی احکام کو دنیا میں جاری کیا- مگر لوگوں نے آپ کی مخالفت کی اور ہر طرح سے مقابلہ کیا تا یہ تعلیم دنیا میں نہ پھیلے- آپ کے خلاف ہر قسم کے ذلیل و رسوا کرنے کے منصوبے کئے گئے، آپ پر مقدمات کئے گئے، جھوٹے گواہ بنا کر لے جائے گئے، مارنے کی کوشش کی گئی، قتل کے مقدمے بنائے گئے- یہی وہ زمانہ تھا جب کہ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے لکھا میں مرزا صاحب کو اپنے قلم سے مٹا دوں گا مگر خدا کی قدرت کا تماشا دیکھو خدا نے ان کے خاندان کو تباہ کر دیا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا خاندان ترقی کر رہا ہے اور احمدیت پھیلتی جاتی ہے- افغانستان جہاں کہ احمدیوں پر سخت مظالم ڈھائے جاتے ہیں، ان کو مروا دیا جاتا ہے اس ملک میں بھی خدا کے فضل سے احمدیت ترقی کرتی جاتی ہے- مولوی نعمت اللہ خان صاحب جن کو محمود طرزی وزیر امان اللہ خان سابق شاہ افغانستان کی چٹھی پر کہ اپنا مبلغ بھیجو، افغانستان میں بطور مبلغ بھیجا تھا لیکن جب انہوں نے لوگوں کے سامنے احمدیت کو پیش کیا تو ان کے خلاف وہاں کے علماء نے فتاویٰ کفر لگائے اور انہیں واجبا لقتل قرار دیا اور انہیں تکلیفوں میں ڈال کر سنگسار کر دیا انہیں ذلیل کرنے کی غرض سے بازاروں میں پھیرایا گیا- غرضیکہ ہر نوع کی تکلیف انہیں پہنچائی گئی مگر انہوں نے احمدیت کو نہ چھوڑا- ایک انگریز مصنف جو ان دنوں وہاں موجود تھا اور اس نے سنگساری کا واقعہ دیکھا تھا وہ لکھتا ہے کہ جب مولوی نعت اللہ خان صاحب کو گاڑا گیا اور پتھر پڑنے شروع ہوئے تو وہ یہی کہتے تھے میں نے حق کو قبول کیا ہے، میں اسے نہیں چھوڑ سکتا- آپ مجھے مار دیں میں تو آپ