انوارالعلوم (جلد 10) — Page 563
۵۶۳ بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم توحید باری تعالیٰ کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم (فرمودہ ۲ جون ۱۹۲۹ء بمقام قادیان) تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا- اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس نے ہمیں پھر دوبارہ اس تحریک پر عمل کرنے کی توفیق عطا کی جو میں سمجھتا ہوں آہستہ آہستہ ملک کے امن اور اس میں صلح کے قیام کا موجب ہوگی- میں نے پچھلے سال اس مہینہ میں گو اسی تاریخ تو نہیں، اسی موقع پر ان جلسوں کی غرض بیان کی تھی جو کہ ایک ہی دن میں سارے ہندوستان میں اور ہندوستان کے باہر بھی اس غرض سے منعقد کئے گئے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے مبارک حالات بیان کئے جائیں- میں نے بتایا تھا کہ اس قسم کے جلسے علاوہ اس کے کہ ان کے ذریعہ ایک عظیم الشان تاریخی حقیقت کا اظہار ہوتا ہے- مختلف قوموں میں صلح اور آشتی کا موجب ہونگے- اس سال بعض ہندو لیڈروں کی طرف سے سوال کیا گیا کہ آیا ان کے بزرگوں کے حالات بیان کرنے کے لئے جلسے کئے جائیں تو ہماری جماعت ان جلسوں میں اسی رنگ میں شریک ہوگی- جس طرح وہ شریک ہو رہے ہیں- میں نے اس کے جواب میں یہی کہا کہ ان جلسوں کی غرض جب یہ بھی ہے کہ مختلف اقوام میں اتحاد اور رابطہ پیدا کیا جائے تو پھر کوئی وجہ نہیں ہو سکتی کہ جب دوسری اقوام ان بزرگوں کے حالات بیان کرنے کے لئے جلسے کریں جنہوں نے دنیا میں عظیم الشان تغیر پیدا کر دیئے، تو ہماری جماعت کے لوگ ان جلسوں میں شامل نہ ہوں- ہماری جماعت کے لوگ بڑی فراخ دلی اور پورے وسعت حوصلہ اور بڑے شوق سے ان میں شامل ہونگے- میں نے گزشتہ سال کے جلسہ پر جو تقریر کی، اس میں مثال کے طور پر بیان کیا تھا کہ جب میں شملہ گیا تو وہاں ایک جلسہ