انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 564 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 564

۵۶۴ برہموسماج کا ہوا جس میں شمولیت کے لئے مسز نائیڈو نے مجھے بھی دعوت دی اور میں اس میں شامل ہوا- مجھے تقریر کے لئے بھی کہا گیا لیکن چونکہ تمام کے تمام حاضرین انگریزی سمجھنے والے تھے، اور بہت قلیل التعداد ایسے لوگوں کی تھی جو اردو سمجھ سکتے تھے اور مجھے انگریزی میں تقریر کرنے کا ملکہ نہ تھا، اس مجبوری کی وجہ سے میں تقریر نہ کر سکا ورنہ میں نے کہہ دیا تھا کہ تقریر کروں گا- چونکہ ابھی تک اس قسم کے جلسوں کی اہمیت کو نہیں سمجھا گیا، اس لئے پوری طرح ان پر عمل نہیں شروع ہوا- لیکن جب بھی ایسے جلسے کئے گئے اور حضرت کرشن، حضرت رامچندر یا اور بزرگوں کے حالات بیان کئے گئے- انہوں نے دنیا میں جو اصلاحیں کی ہیں، وہ پیش کی گئیں- انہوں نے خود تکلیفیں اٹھا کر دوسروں کو جو آرام پہنچایا، ان کے لئے جلسے کئے گئے تو کوئی احمدی نہ ہوگا جو شوق اور محبت سے ان میں شامل نہ ہوگا- لیکن یہ ضروری ہے کہ انبیاء کا ذکر انبیاء کے طور پر کیا جائے اور قومی مصلحین کا ذکر اسی رنگ میں ہوگا نہ کہ انبیاء کے رنگ میں- میں سمجھتا ہوں کہ اگر ہر قوم کی طرف سے اپنے مذہبی بزرگوں کے متعلق اس قسم کے جلسے ہوں تو وہ بھی یقیناً ہمارے ان جلسوں کو بہت پر لطف اور بہت دلچسپ بنا دیں گے- کیونکہ اس طرح آپس میں بہت زیادہ تعاون کا سلسلہ شروع ہو جائے گا- اور جس قدر محنت اور کوشش ہمیں اب ان جلسوں کے انعقاد کے متعلق کرنی پڑتی ہے، اس وقت اتنی نہ کرنے پڑے گی- جب دیگر مذاہب کے لوگ دیکھیں گے کہ ان کے جلسوں میں ہر جگہ ہماری جماعت کے لوگ شامل ہوتے ہیں- محبت اور شوق سے ان کے بزرگوں کی یاد تازہ کرتے ہیں- کھلے دل سے ان کی خوبیوں کا اعتراف کرتے ہیں، تو یقیناً ہمارے جلسوں میں ان کی شمولیت پہلے سے بہت زیادہ ہوگی اور بہت زیادہ اخلاص اور محبت سے ہوگی- مجھے اس بات سے نہایت خوشی ہے کہ اس سال گزشتہ سال کی نسبت زیادہ جلسے ہو رہے ہیں- پچھلے سال ہندوستان کے مختلف مقامات کے لوگوں نے پانچ سو جلسے کرنے کا وعدہ کیا تھا- مگر اس سال ۱۹ سو سے زیادہ جلسوں کے وعدے آ چکے ہیں- پچھلے سال ایک ہزار کے قریب جلسے ہوئے تھے- اس سے اندازہ لگا کر کہا جا سکتا ہے کہ اس سال چار پانچ ہزار جگہ لوگ اس مبارک تقریب پر جمع ہونگے- انسانی آنکھ دور تک نہیں دیکھ سکتی اور میری آنکھ بھی اس نظارہ کو نہیں دیکھ سکتی جو سارے ہندوستان بلکہ دوسرے ممالک میں بھی آج رونما ہے- لیکن خدا نے جو روحانی آنکھ پیدا کی ہے، اس سے میں جو کچھ دیکھ رہا ہوں، اس سے دل خوشی سے بھرتا جا رہا ہے اور نظر آ رہا ہے کہ یہی جلسے ایک دن