انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 16 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 16

۱۶ کی عادت ڈالے بلکہ اپنی اولاد کو بھی یہی عادت ڈالے۔انگریز اپنے بچوں کو سونے نہیں دیتے جب تک وہ دعا نہ کر لیں۔کم از کم اتنا ہی کرو کہ روزانہ زندگی میں دعا کرنے کی عادت پیدا کرا دو۔اس سے خشیت الہٰی پیدا ہوتی ہے اور خدا تعالی پر ایسا ایمان پیدا ہوتا ہے کہ اس کے نور کی پھوار پڑنے لگتی ہے۔میں یقین دلاتا ہوں اگر اس پر عمل ہو تو بہت جلد تبدیلی ہو جائے گی۔(۲) اخلاق کی مضبوطی دو سری بات جس کی طرف میں توجہ دلاتاہوںوہ اخلاق کی مضبوطی ہے۔میں نے پہلے بھی کہا ہے کہ لوگ کہیں گے کہ میں دوسروں کے سامنے ان کو شرمندہ کرتا ہوں مگر میں سچ کہتا ہوں کہ میرا دل درد مند ہے۔میں جب اپنی قوم کو اس حال میں دیکھتا ہوں تو مجھے تکلیف ہوتی ہے۔اس لئے میں اس کی پرواہ نہیں کرتا کہ کوئی کیا کہے گا۔میں اپنی قوم کو توجہ دلاتا ہوں اور جن امرا ض میں وہ مبتلا ہے اس سے آگاہ کرنا اپنا فرض سمجھتا ہوں۔پس میری بات سنو کہ اس میں تمہارے لئے بھلائی ہے۔اخلاق کی مضبوطی کے لئے جن امور کی ضرورت ہے۔ان میں اول راست بازی ہے۔قومی عمارت میں جس مصالح کی ضرورت ہے وہ انفرادی اصلاح ہے اور پہلی اینٹ راست بازی ہے۔اس سے اعتماد پیدا ہوتا ہے۔اور جس قدر اعتماد مضبوط ہو گااسی قدر قوم میں اعلی ٰاخلاق اور معاملات کی عمدگی پیدا ہوگی۔ابھی تھوڑے ہی دن ہوئے ہیں کہ میں نے مسلمانوں کی اقتصادی فلاح کے خیال سے ان میں تحریک کی کہ وہ تجارت کی طرف توجہ کریں اور اپنی دکانیں کھولیں۔یہ تحریک کام کر رہی ہے اور مختلف جگہ مسلمانوں کی دکانیں کھل رہی ہیں۔لیکن میرے پاس کئی شکایات بھی آ رہی ہیں کہ آپس میں اعتماد نہیں تو دوسرے کیا کریں گے۔اعتماد پیدا کرنے کے لئے راست بازی اول شرط ہے۔اس لئے خود راست باز بنو اور اپنی اولادوں کو راست بناؤ۔اس بات کی نگرانی کرو کہ وہ جھوٹ نہ بولیں لیکن جب ہم دیکھتے ہیں کہ روزانہ ہم گھروں میں جھوٹ بولتے ہیں تو أولاد میں راست بازی کیونکر پیدا ہوگی۔ہم خود ان کی اس اعلی ٰقوت کو ضائع کر رہے ہیں۔بچہ کے سامنے ماں نے ایک کام کیا مگر جب باپ نے پوچھا تو انکار کر دیا۔اب وہ بچہ دیکھتا ہے کہ ماں نے جھوٹ بولا۔وہ بھی اس قسم کی عادت سیکھ لیتا ہے۔پس التزام کرو کہ ہرگز جھوٹ نہ بولو۔اس پر ہرگز عمل نہ کرو کہ "دروغ مصلحت آمیز بہ از راستی فتنہ انگیز‘‘- یہ غلط ہے کہ سچ سے فتنہ پیدا ہوتا ہے۔سچ اگر مصیبت کے وقت نہ بولو گے تو اور کونسا وقت اس کے بولنے کا ہے۔پس کسی مصیبت سے ڈر کر سچ کو ترک نہ کرو۔