انوارالعلوم (جلد 10) — Page 528
۵۲۸ سوشہادتیں اسے حاصل ہوں- تو فرمایا اولئک علی ھدی من ربھم و اولئک ھم المفلحون- ایسے انسان کو فلاح نصیب ہو جاتی ہے اور ہدایت اس کے ماتحت آ جاتی ہے- اس کے کلام میں تاثیر، برکت اور نور ہوتا ہے- یہ قرآن کا دعویٰ ہے- اب سوال ہو سکتا ہے کہ قرآن نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ جو مجھ سے تعلق رکھتا ہے، ہدایت اس کے تابع ہو جاتی ہے اور وہ مقاصد میں کامیاب ہو جاتا ہے- مگر ہم تو بہتیرے مسلمانوں کو دیکھتے ہیں جو قرآن پڑھتے ہیں مگر ان کے متعلق یہ نتیجہ نہیں نکلتا- اس کا جواب یہ دیا گیا ہے کہ لا یمسہ الالمطھرون- مطہر لوگ ہی اس کے برکات اور فیوض سے حصہ پاتے ہیں- یہ نہیں کہ جو مونہہ سے قرآن کے الفاظ نکالے، وہ فائدہ اٹھا لے- یہ مس مطہر لوگوں کو ہی حاصل ہوتا ہے- پس یہاں مس سے مراد ظاہری طور پر چھونا نہیں، ایک نجاست سے بھرا ہوا انسان بھی قرآن کو چھو لیتا ہے- اگر وہ مسلمان ہو گا تو گناہ گار ہو گا اور اگر کافر ہے تو وہ تو قرآن کو مانتا ہی نہیں- پس لا یمسہ الالمطھرون کا مفہوم یہ ہے کہ قرآن کی برکات، اس کے فضائل اور اس کی رحمتوں سے حصہ نہیں پاتے مگر مطہر لوگ - جو لوگ اس کی تعلیم پر عمل کرتے ہیں وہی اس کی برکات اور رحمتوں سے حصہ پاتے ہیں- ایک معنی تو اس کے یہ ہیں- ایک اور معنی ہیں جو علمی طور پر نہایت عظیم الشان ہیں- اور وہ یہ ہیں دنیا میں کئی ایک کتابیں پائی جاتی ہیں- جو اس بات کی مدعی ہیں کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوئی ہیں- ایسی کتابیں ہندوؤں، عیسائیوں، زرتشتیوں وغیرہ کی ہیں- اسی طرح قرآن بھی مدعی ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوا ہے- اس پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر قرآن کو ان کتابوں پر کیا فضیلت ہے کہ ان کو چھوڑ کر اسے مانا جائے- وہ بھی اس بات کی دعویدار ہیں کہ خدا کی طرف سے نازل ہوئی ہیں- اور قرآن کا بھی یہی دعویٰ ہے- اور ہمارے لئے تو اس لحاظ سے بھی مشکل ہے کہ قرآن نے تسلیم کیا ہے کہ خدا کی طرف سے دنیا کی ہدایت کے لئے کتابیں آتی رہی ہیں- اس طرح ان کتابوں کا پلہ بھاری ہو گیا کہ قرآن نے بھی ان کے آنے کی تصدیق کر دی- مگر ان کتابوں کے ماننے والے قرآن کو نہیں مانتے- اب سوال یہ ہے کہ ایسی صورت میں کونسی کتاب ماننی چاہئے جبکہ بظاہر قرآن کی اپنی تصدیق سے ان کتابوں کا درجہ بڑھ جاتا ہے- قرآن نے اس بات کے لئے کہ یہی کتاب خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے جسے ماننا چاہئے جو