انوارالعلوم (جلد 10) — Page 13
۱۳ ہے۔میرے ایک رشتہ دار یہاں شملہ میں ایک معزز عہده دار ہیں۔انہوں نے اپنا ذاتی واقعہ بیان کیا کہ ایک مرتبہ مجھے ایک مسئلہ کے متعلق شبہات پیدا ہوئے۔میں نے اپنے محلّہ کی مسجد کے امام سے پوچھا کہ ایک اسلام کے نہ ماننے والے نے یہ اعتراض کئے ہیں۔بجائے اس کے کہ وہ کوئی جواب دیتا اور مجھے سمجھاتا یہ کہا کہ تیرے باپ کے پاس جا کر کہتا ہوں۔میں نے اسی دن سے عہد کر لیا کہ کسی مولوی سے پوچھنا نہیں۔یہ ایک مثال نہیں میں ایسے بہت سے واقعات سے واقف ہوں۔میرے پاس تو تعلیم یافتہ لوگ آتے ہیں اور وہ اپنے اعتراضات پیش کرتے ہیں۔میں آزادی سے ان کو پوچھنے کا حق دیتا ہوں اور جواب دیتا ہوں۔اس لئے کہ کانشنس کی آواز کو دبا نہیں سکتے۔اگر ہم شبہات اور اعتراضات کا جواب نہ دیں گے تو خود اِن کو اسلام اور قرآن سے متنفّر کریں گے۔پس اس بات کو خوب یاد رکھو کہ اگر مسلمان اس کے لئے تیار نہیں کہ اپنی اولاد کو مرتد نہ کریں اور انہیں اس کے لئے کبھی بھی تیار نہیں ہونا چاہئے بلکہ ان کو حقیقی مسلمان بنانے کے لئے ہر وقت مستعد اور فکر مند رہنا چاہئے۔تو اس کی ایک ہی راہ ہے کہ عقل خداداد کی روشنی میں قرآن کریم سکھائیں۔اگر وہ ایسا نہ کریں گے تو اسلام صرف کتاب میں رہ جائے گا۔یہ فلسفہ کا زمانہ ہے میں یہ نہیں کہتا کہ فلسفہ یا سائنس کے نام سے ڈر جانا چاہئے قرآن کریم کا فلسفہ ہی سچا فلسفہ ہے اور محض سائنس یا فلسفہ کے نام سے ہر بیوقوفی کی بات مان لو۔میں خود مثلاً ڈارون کی تھیوری کو نہیں مانتا۔اور میں نے دیکھا ہے کہ اس کے ماننے والے میرے سوالات کا جواب نہیں دے سکتے۔پس حقیقی علوم اور سائنس قرآن کریم کے خلاف نہیں۔یہ کمزوری ہوگی اگر ان سے کوئی دب جاوے۔نبی کریمﷺ کی محبت پیدا کرنے کا طریق اور مسلمانوں کا موجودہ عمل غرض پہلی بات یہ ہے کہ قرآن مجید کو پڑھیں، سمجھیں اور اس پر عمل کریں تاکہ رسول کریم صلى الله علیہ وسلم کی محبت دلوں میں پیدا ہو۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کے لئے ضرورت ہے کہ آپؐ کی ان قربانیوں کو بیان کریں جو آپ ؐنے قوم اور انسان کے لئے کی ہیں۔جوں جوں انسان ان قربانیوں پر غور کرے گا آپؐ کے ساتھ محبت اور وفا کا ایک گہرا تعلق پیدا ہوتا جائے گا۔مگر اب مسلمانوں کی یہ حالت ہے کہ وہ آپ کی قربانیوں پر تو غور نہیں کرتے۔وہ یا تو آپ کی مدح و ثناء کرتے وقت آپ کے بالوں اور چہرہ کی تعریف کریں گے۔اور یا آپ کے خوارق اور