انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 514 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 514

۵۱۴ تھا کہ آپ میرے پاس آتے نہ تھے- میں نے خیال کیا کہ شاید اس اعلان پر جوش کی وجہ سے آپ آ جائیں- پس یہ کہنا غلط ہے کہ عربوں کے حافظے اچھے نہ تھے- رہی یہ بات کے شعروں میں اختلاف ہے- اس کے متعلق یاد رکھنا چاہئے کہ وہ لوگ جو شعر یاد رکھتے تھے وہ انہیں الہامی کتاب کے شعر سمجھ کر نہیں یاد کرتے تھے بلکہ ان کا مطلب اخذ کر لیتے تھے- مگر قرآن کو تو خدا کا کلام سمجھ کر یاد کرتے تھے- اس وجہ سے اس کا ایک لفظ بھی آگے پیچھے نہ کرتے تھے- پھر شعر جو وہ یاد کرتے تھے وہ استادوں سے پڑھ کر یاد نہ کرتے تھے بلکہ جس سے سنتے یاد کر لیتے- اور ہر شخص اس قابل نہیں ہوتا کہ صحیح الفاظ ہی یاد کرائے- لیکن اسلامی تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن لکھنے کے متعلق اور قرآن یاد کرنے کے متعلق خاص قواعد مقرر تھے اور قرآن یاد کرانے کے لئے چار آدمی مقرر تھے- اور اس میں اتنی احتیاط کی جاتی تھی کہ ایک دفعہ نماز میں حضرتعلیؓ نے پڑھنے والے کو لقمہ دے دیا- تو انہیں منع کیا گیا اور کہا گیا کہ آپ اس کام کے لئے مقرر نہیں- غرض قرآن کریم کے بارہ میں اتنی احتیاط کی گئی تھی کہ چار آدمی اس کام کے لئے مقرر تھے حالانکہ قرآن جاننے والے ہزاروں تھے- اس کے مقابلہ میں شاعروں کی طرف سے کونسے لوگ مقرر تھے- جو شعر یاد کراتے تھے- امراء القیس نے کسے مقرر کیا تھا کہ اس کے اشعار لوگوں کو یاد کرایا کرے- مگر قرآن یاد کرانے کے متعلق تو استاد در استاد بات چلی آ رہی ہے- سوم- ایک اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں پورا قرآن نہ لکھا گیا تھا- اس کا جواب یہ ہے کہ یہ درست نہیں ہے- رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں یقیناً سارا قرآن لکھا گیا- جیسا کہ حضرت عثمانؓ کی روایت ہے کہ جب کوئی حصہ نازل ہوتا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم لکھنے والوں کو بلاتے اور فرماتے اسے فلاں جگہ داخل کرو- جب یہ تاریخی ثبوت موجود ہے تو پھر یہ کہنا کہ قرآن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت پورا نہ لکھا گیا تھا بے وقوفی ہے- رہا یہ سوال کہ پھر حضرت ابوبکرؓ کے زمانہ میں کیوں لکھا گیا اس کا جواب یہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں قرآن اس طرح ایک جلد میں نہ تھا جس طرح اب ہے- حضرت عمرؓ کو یہ خیال پیدا ہوا کہ لوگ یہ نہ سمجھیں کہ قرآن محفوظ نہیں- اس لئے انہوں نے اس بارے میں حضرت ابوبکرؓ سے جو الفاظ کہے وہ یہ تھے کہ انی اری ان تامر جمع القران میں مناسب سمجھتا ہوں کہ آپ قرآن کو ایک کتاب کی شکل میں جمع