انوارالعلوم (جلد 10) — Page 465
۴۶۵ ہندو کس طرح مسلمانوں کا اعتبار حاصل کر سکتے ہیں میں آخر میں ہندو صاحبان کو توجہ دلاتا ہوں کہ اگر وہ ہندوستان کو آزاد دیکھنا چاہتے ہیں تو انہیں وسعت حوصلہ سے کام لینا چاہئے- وہ اس بات کی امید ہرگز نہ رکھیں کہ ایک مسلمان کے مقابلہ میں تین ہوتے ہوئے بھی وہ مسلمانوں کا حق چھیننا چاہیں گے تو انہیں آزادی کے حصول میں کامیابی ہوگی- انہیں یاد رکھنا چاہئے کہ ہندوستان کی آزادی کا فردی لحاظ سے گو ہر اک فرد کو فائدہ پہنچے گا- مگر قومی لحاظ سے اس کا نفع ہندوؤں کو پہنچے گا- کیونکہ ان کی تعداد اس ملک میں بہت زیادہ ہے- پس انہیں وسعت حوصلہ سے کام لینا چاہئے- اور اس تنگ نظریہ پر انہیں زور نہیں دینا چاہئے جس کے اختیار کرنے سے ایک اقلیت کو بھی شرمانا چاہئے- انہیں یاد رکھنا چاہئے کہ اگر کسی قوم کا فرض ہے کہ وہ وسعتحوصلہ دکھائے تو وہ زبردست اکثریت ہی ہے- انہیں پروفیسر مرے (PROFESSORMURREY) کا یہ قول یاد رکھنا چاہئے کہ-: ‘’دونوں طرفوں کو نہ صرف عفو بلکہ احسان سے کام لینا چاہئے- اور دنیا تو یہی کہے گی کہ پہلا فرض غالب قوم کا ہے کہ وہ احسان سے کام لے’‘- ۶۱؎ یہی قول ان پر بھی چسپاں ہوتا ہے- اگر ہندوؤں کی اکثریت باوجود اس کے کہ ان کی اکثریت کو کوئی صدمہ نہیں پہنچتا، مسلمانوں کی اقلیت سے ان شرائط کے طے کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں جن کی واحد غرض مسلمانوں کے حقوق کی حفاظت کرنا ہے تو پھر اسے بھی یہ امید نہیں رکھنی چاہئے کہ وہ مسلمانوں کا اعتبار حاصل کر لے گی، اور وہ گورنمنٹ کو ایک ملکی گورنمنٹ خیال کریں گے- مسلمانوں کا پانچواں مطالبہ جُداگانہ طریق انتخاب پانچواں مطالبہ مسلمانوں کا یہ تھا کہ انتخاب کا طریق جداگانہ ہو- یعنی مسلمان مسلمان ممبر منتخب کریں- اور ہندو ہندو ممبر منتخب کریں- مگر اس مطالبہ کے متعلق مسلمانوں میں اختلاف تھا- بعض کے نزدیک جداگانہ انتخاب اس وقت تک جاری رہنا چاہئے، جب تک خود مسلمان اس کو چھوڑنے کیلئے تیار نہ ہوں- بعض کے نزدیک اوپر کے مطالبات کے منظور ہونے پر اس مطالبہ کو مخلوط انتخاب کے حق میں چھوڑا جا سکتا ہے- بشرطیکہ مسلمانوں کے حقوق تمام صوبوں میں اور مرکزی گورنمنٹ میں محفوظ کر دئے جائیں- جُداگانہ انتخاب کی