انوارالعلوم (جلد 10) — Page 378
۳۷۸ حکومت کیا شے ہے؟ اس کا سمجھ لینا ان کے لئے ضروری ہے کیونکہ اس کے سمجھ لینے کے بغیر انہیں معلوم نہ ہو سکے گا کہ وہ اس وقت اپنے مطالبات پر زور نہ دیکر اپنی اور اپنی اولادوں کا خون کر رہے ہیں- نہیں نہیں بلکہ وہ خود اسلام کی جڑوں پر تبر رکھ رہے ہیں- اور ہندوستان میں سپین کی تباہی کی داغ بیل ڈال رہے ہیں- عیاذا باللہ ڈومینین سلف گورنمنٹ ایک تازہ اصطلاح ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ اس قسم کی آزاد حکومت جس قسم کی حکومت کہ کینیڈا، آسٹریلیا، ساؤتھ افریقہ، نیوزی لینڈ کو حاصل تھی- اور اب پانچ سال سے جنوبی آئرلینڈ کو بھی حاصل ہے- مختلف بحثوں جھگڑوں اور سمجھوتوں کے بعد جنگ کے زمانہ تک برطانوی گورنمنٹ سے ڈومینینز (DOMINIONS) کو مندرجہ ذیل اختیارات حاصل ہو چکے تھے- اول- برطانوی پارلیمنٹ کوئی ایسا قانون نہ بنائے گی جو کسی ڈومینین کے اندرونی نظم ونسق سے تعلق رکھتا ہو بلکہ اس ڈومینین کو پورا حق حاصل ہوگا- کہ وہ اپنے اندرونی معاملات کے متعلق خود قانون بنائے- برطانوی گورنمنٹ کی پریوی کونسل (PRIVYCOUNCIL) کے پاس اپیل کرنے کا حق اگر کوئی ڈومینین چاہے تو اپنے اہل وطن سے چھین سکتی ہے- یعنی اس ڈومینین کے ججوں کے فیصلہ کو آخری فیصلہ قرار دیا جا سکتا ہے- ہر ڈومینین اپنے ملک کی حفاظت کیلئے خشکی یا تری کی فوج رکھ سکتی ہے- اسی طرح ہر ایک ڈومینین اپنے قانون اساسی کو اپنی پارلیمنٹ کے فیصلہ سے بھی بدل سکتی ہے، گو وہ قانون اساسی برطانوی پارلیمنٹ کا ہی پاس کردہ ہو- ڈومینین گورنمنٹ کے پاس کردہ قوانین پر گو برطانوی حکومت کو ویٹو (VETO) کا حق حاصل ہے لیکن وہ حق استعمال نہیں کیا جائے گا- جب تک کہ کوئی ایسا معاملہ نہ ہو جو صرف اس ڈومینین سے تعلق نہ رکھتا ہو، بلکہ برطانوی حکومت کے دوسرے حصوں پر بھی موثر ہو- چنانچہ ۱۹۱۱ء کی امپیریل (IMPERIAL) کانفرنس میں یہ فیصلہ کر دیا گیا تھا کہ ڈومینین حکومت کے متعلق آئندہ برطانوی پالیسی یہ ہوگی کہ وہ ہر ڈومینین کو پوری بغیر حد بندیوں کے اور کامل مقامی آزاد گورنمنٹ دے دے گا- اور اس وقت تک دخل نہ دے گا جب کہ ڈومینین کوئی ایسا فعل نہ کر لے جو برطانوی حکومت سے اس کے وفادارانہ تعلقات کے خلاف ہو-۱۹؎ لیکن اس عرصہ میں اور تغیرات پیدا ہو گئے ہیں- اور ان کے مطابق ڈومینینز کو اور بھی زیادہ اختیارات مل چکے ہیں- اور گو اب بھی رسمی طور پر برطانوی حکومت کو ڈومینینز