انوارالعلوم (جلد 10) — Page 367
۳۶۷ سوالات سے اہم ہے اور اس کے بغیر کوئی حفاظت کا ذریعہ کامیاب نہیں ہو سکتا- اکثر مسلمان اس امر کی تائید میں رائے دے چکے ہیں- اور مسٹر جناح کی لیگ بھی جیسا کہ مولانا ابوالکلامصاحب آزاد کے مذکورہ بالا فقرہ سے ظاہر ہے اس کی تائید میں تھی- لیکن نہرو رپورٹ نے بجائے اتحادی یا فیڈرل طریق حکومت کے ایک قسم کی یونیٹیرین (UNITARIAN) یا مرکزیحکومت کی تجویز پیش کی ہے- جو ملک کی اصل حاکم سمجھی جائے گی- اور صوبہ جات کے اختیار اس مرکزی حکومت سے حاصل کردہ ہونگے- اس میں کوئی شک نہیں کہ نہرو کمیٹی کے ہوشیار ممبر اس امر کے متعلق صفائی کے ساتھ نہیں لکھ سکتے تھے- کیونکہ وہ جانتے تھے کہ فوراً مسلمان بیدار ہو جائیں گے اور شور کا دبانا مشکل ہو جائے گا- اور چونکہ وہ ایسے اہم سوال کو بغیر اس الزام کا مورد بننے کے نظر انداز بھی نہیں کر سکتے تھے کہ وہ یا تو سیاسیات سے نابلد ہیں یا انہوں نے رپورٹ کے تیار کرنے میں محنت سے کام نہیں لیا- اس لئے انہوں نے نہایت ہوشیاری سے اپنی رپورٹ کے ساتویں باب کے شروع میں اصل تجاویز میں یہ فقرہ لکھ دیا ہے کہ-: ‘’ہم نے قانون اساسی کو مکمل صورت میں تیار کرنے کی کوشش نہیں کی’‘-۸؎ لیکن باوجود اس کے کون عقلمند آدمی کہہ سکتا ہے کہ قانون اساسی کے تیار کرنے والے بغیر مورد الزام بننے کے اس امر کو نظر انداز کر سکتے ہیں کہ آئندہ حکومت ہند کی شکل کیا ہوگی؟ مگر نہرو کمیٹی نے ایسا کیا ہے- لیکن ایسا اہم سوال چونکہ قانون اساسی سے کسی صورت سے بھی جدا نہیں ہو سکتا- اس لئے جس امر کو تعریف کے حذف کر دینے سے چھپایا گیا ہے- اسے تفاصیل نے ظاہر کر دیا ہے- اور رپورٹ کے متعدد مقامات ظاہر کر رہے ہیں کہ رپورٹ نے ایک مضبوط سینٹرل اور ایک رنگ کی یونیٹیرین گورنمنٹ تجویز کی ہے- چنانچہ رپورٹ کے باب تجاویز کے عنوان پارلیمنٹ کے نیچے چونتیسویں مادہ میں لکھا ہے- ‘’صوبہ جات کی کونسلوں کے اختیارات تمام ان امور پر حاوی ہیں جنہیں فہرست دوم میں گنایا گیا ہے’‘- ۹؎ اسی طرح رپورٹ کے عنوان پارلیمنٹ کے نیچے تیرھویں مادہ کی پہلی شق میں یوں درج ہے کہ یہ پارلیمنٹ قانون بنائے گی- ‘’امن نظام اور کامن ویلتھ (COMMONWEALTH) کی حکومت کے اچھی