انوارالعلوم (جلد 10) — Page 356
۳۵۶ تمام کوششوں کے باوجود مختلف صوبہ جات اور مختلف جماعتوں کے نمائندے جداگانہ انتخاب کے حق کو چھوڑنے پر تیار نہیں تھے- آخر مسٹر جناح نے جو پریزیڈنٹ تھے، اٹھ کر صاف لفظوں میں کہا کہ ووٹ کی ضرورت نہیں- کیونکہ یہ کوئی باقاعدہ ایسوسی ایشن نہیں- وہ مسلمانوں کی عام رائے کو سمجھ گئے اور باوجود اس کے کہ ان کی رائے مخلوط انتخاب کے حق میں ہے مگر وہ مسلمانوں کے نائب ہونے کی حیثیت سے ہندوؤں سے سمجھوتہ کے وقت اس امر کو پیش کریں گے، جس طرف مسلمانوں کی اکثریت ہے- یہ کانفرنس دہلی کے بیس مسلم لیڈروں کے فیصلہ پر غور کرنے کیلئے بیٹھی تھی- اور اس میں مخالف اور موافق ہر قسم کے خیالات کے لوگ تھے- لیکن باوجود اس کے سامنے نہ مدراس کانگرس کے ریزولیوشن تھے- اور نہ نہرو کمیٹی کے بلکہ دہلی کے مسلم لیڈروں کی تجویز تھی- جو مدراس کانگریس اور نہرو کمیٹی کی نسبت مسلمانوں کی رائے کے بہت زیادہ قریب تھی- مسلمانوں کی مختلف جماعتوں کے نمائندوں کی ایک زبردست اکثریت نے اسے رد کر دیا- حتیٰ کہ خود اس تجویز کے مجوزوں میں سے بھی بعض آدمی جیسے کہ سر محمد شفیع اس کی مخالفت پر آمادہ ہو گئے- پس جب کہ مسلمانوں کا ایک اجتماع مخلوط انتخاب کی تجویز کو رد کر چکا تھا- تو اس سے یہ بات ظاہر ہو چکی تھی کہ مسلمانوں کی اکثریت مخلوط انتخاب کے مخالف ہے- پھر باوجود اس کے آل پارٹیز کانفرنس نے کیوں ان مخالف خیال والوں کو دعوت نہیں دی- اگر نہیں دی تو بھی وہ تمام خیالات کی نمائندہ نہیں کہلا سکتی- اور اگر دی اور انہوں نے اس دعوت کو رد کر دیا تو بھی ثابت ہوا کہ ہندوستان کی ایک زبردست قوم کی اکثریت کو اس آل پارٹیز کانفرنس پر کسی قسم کا کوئی اعتبار نہ تھا- حتی کہ وہ اس کے جلسوں میں شامل ہونا بھی پسند نہیں کرتی تھی- پس اس کانفرنس کو ہندوستان کا نمائندہ کون کہہ سکتا ہے- مگر میں جو واقعات اوپر نہرو رپورٹ سے نقل کر آیا ہوں، ان سے معلوم ہوتا ہے کہہ یہ کانفرنس کلکتہ لیگ کی بھی جو درحقیقت ایک ہی مسلمانوں کی آواز تھی نمائندہ نہ تھی- کیونکہ نہرو رپورٹ میں تسلیم کیا گیا ہے- کہ آل انڈیا مسلم لیگ کی کونسل نے اپنے نمائندوں کو یہ ہدایت دی تھی کہ جب تک کلکتہ سیشن (SESSION) کے پاس کردہ ریزولیوشن کو پہلے تسلیم نہ کر لیا جائے، اس وقت تک وہ اس کی کارروائی میں حصہ نہ لیں- اب سوال یہ ہے کہ اس ریزولیوشن کو لیگ نے کب مسترد کیا؟ نہرو رپورٹ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس ہدایت کو کبھی