انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 297 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 297

۲۹۷ آپ نے ابھی نبوت کا دعویٰ نہ کیا تھا- اور مذہبی وجہ سے آپ سے اخلاص کی صورت پیدا نہ تھی- پس آپ سمجھتے تھے کہ جوان عورت کی خواہشات چاہیں گی کہ اس کی طرف توجہ کی جاوے- اس لئے آپ نے ادھیڑ عمر کی عورت سے شادی کی اور یہ آپ کی بہت بڑی قربانی تھی- آپ اس وقت ۲۵ سال کے جوان تھے اور آپ کی جسمانی حالت ایسی تھی کہ ۶۳ سال کی عمر میں بھی صرف چند بال سفید آئے تھے اور آپ ایسے مضبوط تھے کہ آپ ہی نمازیں پڑھاتے تھے اور آپ ہی لشکروں کی کمان کرتے تھے- پس وہ شخص جو بڑھاپے میں بھی نہایت قوی تھا وہ بھرپور جوانی کے وقت نوجوان عورتوں کو چھوڑ کر ایک ادھیڑ عمر کی عورت سے اس لئے شادی کرتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ وقت خدمت مخلوق میں لگا سکے- اس سے بڑھ کر شہوات کی قربانی اور کیا ہو سکتی ہے- پھر جوانی کی عمر میں تو آپ نے ادھیڑ عمر کی عورت سے اس لئے شادی کی کہ وہ آپ کے سارے وقت پر قابو نہ پالے اور جب آپ ادھیڑ عمر کو پہنچے اور آپ نے دیکھا کہ اب عورتوں کی ایک ایسی جماعت پیدا ہو گئی ہے جو آپ سے مذہبی طور پر اخلاص رکھتی ہے اور آپ کے ساتھ مل کر ہر قسم کی مذہبی قربانی کے لئے تیار رہے گی- تو اس وقت اس نیت سے کہ شریعت کے مختلف مسائل کو قوم میں رائج کر سکیں آپ نے کئی جوان عورتوں سے شادی کی اور اس بوجھ کو اٹھایا جو نوجوانوں کی بھی کمر توڑ دیتا ہے- گویا دونوں زمانوں میں جوانی میں بھی اور ادھیڑ عمر میں بھی آپ نے شہوات کی قربانی کی- کیونکہ عائشہؓ کی شادی کے بعد دوسری عورتوں سے شادی ایک زبردست قربانی تھی- (۲) جذبات کی قربانی آپ نے مختلف اوقات میں اپنے جذبات کی بھی قربانی کی ہے- چنانچہ اس کی ایک مثال وہ قربانی ہے جسے آپ نے عدل و انصاف کے قیام کے لئے پیش کیا- تاریخ میں آتا ہے کہ جنگ بدر میں آپ کے چچا عباس قید ہو گئے- حضرت عباس دل سے مسلمان تھے- اور ہمیشہ حضرت کی مدد کیا کرتے تھے- اور مکہ سے دشمنوں کی خبریں بھی بھیجا کرتے تھے- مگر کفار کے زور دینے پر ان کے ساتھ مل کر بدر کی جنگ میں شریک ہوئے- قید ہونے پر اور دوسرے قیدیوں کے ساتھ ہی انہیں بھی رسیوں سے باندھ کر رکھا گیا- چونکہ مسلمانوں کی تعداد کم تھی اور اس زمانہ کے لحاظ سے ایسے سامان نہیں تھے کہ قیدیوں کے بھاگنے کی روک کی جا سکے- اس لئے رسیاں خوب مضبوطی سے باندھی گئیں- اس