انوارالعلوم (جلد 10) — Page 176
۱۷۶ کسی کا پاجامہ ٹخنے سے نیچے دیکھتا تو جھٹ کہہ دیتا کہ یہ کافر ہے- کھانے کے بعد کسی کو ہاتھ دھوتے دیکھا تو کہہ دیا کافر ہے کیونکہ یہ رسول کریم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے خلاف کرتا ہے- حالانکہ بات یہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت سالن میں مسالے نہ پڑتے تھے- زیتون کے تیل سے روٹی کھا لیتے تھے- اور یہ تیل بالوں کو بھی ملا جاتا تھا- اس لئے کھانے کے بعد منہ پر مل لیتے- اب سالن میں ہلدی اور کئی قسم کے مسالے پڑتے ہیں مگر اب بھی کئی مولوی منہ پر ہاتھ ملنے کو سنت قرار دینے والے، مسالے سے بھرے ہوئے ہاتھ منہ پر مل لیتے ہیں اور کہتے ہیں یہ سنت ہے- ہم کہتے ہیں اگر تم زیتون کے تیل سے کھانا کھاؤ تو بیشک ہاتھ کھانے کے بعد منہ پر مل لو- اور اس کے لئے ہم بھی تیار ہیں- مگر تم سالن میں جب تک مسالہ ہلدی اور مرچ نہ ہو، کھاتے ہی نہیں، پھر ان مسالوں کو کون منہ پر ملے- ایک دفعہ میں نے ایک مولوی صاحب کی دعوت کی- کھانے کے بعد جب ہاتھ دھونے کیلئے چلمچی آئی تو انہوں نے بڑی حقارت سے اسے پرے ہٹا کر کہا یہ سنت کے خلاف ہے میں ہاتھ نہیں دھوؤں گا- اور سالن سے بھرے ہوئے ہاتھ منہ پر مل لئے- درحقیقت یہ سنت کے خلاف نہیں- حدیث میں صاف آتا ہے کہ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ کھانے سے پہلے بھی ہاتھ دھوئے اور بعد میں بھی- حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس غلطی کا ازالہ یوں فرمایا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے افعال کئی قسم کے ہیں- ایک وہ اعمال ہیں جو آپ ہمیشہ کرتے اور جن کے کرنے کا آپ نے دوسروں کو بھی حکم دیا اور فرمایا اس طرح کیا کرو- ان کا کرنا واجب ہے (۲)وہ اعمال جو عام طور پر آپﷺ کرتے اور دوسروں کو کرنے کی نصیحت بھی کرتے، یہ سنن ہیں-(۳)وہ اعمال جو آپکرتے اور دوسروں کو فرماتے کہ کر لیا کرو تو اچھے ہیں یہ مستحب ہیں (۴)وہ اعمال جنہیں آپ مختلف طور پر ادا کرتے ان کا سب طریقوں سے کرنا جائز ہے (۵) ایک وہ اعمال ہیں جو کھانے پینے کے متعلق تھے ان میں نہ آپ دوسروں کو کرنے کے لئے کہتے اور نہ کوئی ہدایت دیتے- آپ ان میں عرب کے رواج پر عمل کرتے- ان احکام میں ہر ملک کا انسان اپنے ملک کے رواج پر عمل کر سکتا ہے- رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے گوہ لائی گئی جو آپ نے نہ کھائی- اس پر پوچھا گیا کہ اس کا کھانا حرام ہے؟ آپ نے فرمایا- نہیں حرام نہیں- مگر ہمارے ہاں لوگ اسے کھاتے نہیں- اسلئے میں بھی اسے نہیں