انوارالعلوم (جلد 10) — Page 177
۱۷۷ کھاتا- ۲۸؎ اس سے یہ نتیجہ نکلا کہ جن امور میں شریعت ساکت ہو اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ثابت نہ ہو- انہیں حتی الوسع ملک کے دستور اور رواج کے مطابق کر لینا چاہئے تا کہ خواہ مخواہ لوگوں میں نفرت نہ پیدا ہو- ایسے امور سنت نہیں کہلاتے- جوں جوں ملک کے حالات کے ماتحت لوگ ان میں تبدیلی کرتے جائیں، اس پر عمل کرنا چاہئے- (۴) چوتھی غلطی یہ لگ رہی تھی- کہ بعض لوگوں کے نزدیک شریعت صرف کلام الہٰی تک محدود تھی- نبی کا شریعت سے کوئی تعلق نہ سمجھا جاتا تھا جیسا کہ چکڑالوی کہتے ہیں- حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کے متعلق بتایا کہ شریعت کے دو حصے ہیں۔(۱) ایک اصولی حصہ ہے جس پر دینی، اخلاقی، تمدنی، سیاسی کاموں کا مدار ہے- (۲) دوسرا حصہ جزئیتشریحات اور علمی تفصیلات کا ہے- یہ خدا تعالیٰ نبیوں کے ذریعہ کراتا ہے تا کہ نبیوں سے بھی مخلوق کو تعلق پیدا ہو- اور وہ لوگوں کے لئے اسوہ بنیں- پس شریعت میں نبی کی تشریحات بھی شامل ہیں- عبادات کے متعلق اصلاح (۹) نواں کام حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے عبادات کی اصلاح کا کیا ہے اس کے متعلق لوگوں کو (۱) اول تو یہ وسوسہ پیدا ہو گیا تھا کہ عبادت صرف دل سے تعلق رکھتی ہے جسم کو اس سے تعلق نہیں- چنانچہ قریباً بیس سال ہوئے ہیں کہ علی گڑھ میں ایک شخص نے لیکچر دیا- جس میں بیان کیا کہ اب چونکہ زمانہ ترقی کر گیا ہے اس لئے پہلے زمانہ کا طریق عبادت اس وقت قابل عمل نہیں ہے- اب صرف اتنا کافی ہے کہ اگر کوئی نماز پڑھنا چاہے تو بیٹھے بیٹھے ذرا میز پر سر جھکا کر خدا کو یاد کرلے- روزہ اس طرح رکھا جا سکتا ہے کہ پیٹ بھر کے نہ کھائے- چند بسکٹ ایک آدھ چائے کی پیالی پی لے تو کوئی حرج نہیں ہے- حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بتایا کہ عبادات کا تعلق روح سے ہے اور روح کا تعلق جسم سے ہے- اگر جسم کو عبادت میں نہ لگائیں گے تو قلبی خشوع نہ پیدا ہوگا- پس جسمانی عبادت کو فضول سمجھنا نہایت غلط طریق اور مہلک راہ ہے اور اصول عبادت کے نہ سمجھنے کی وجہ سے ایسا خیال پیدا ہوتا ہے- (۲) دوسری غلطی لوگوں کو یہ لگی ہوئی تھی کہ وہ نماز میں دعا کرنا بھول گئے تھے- سنیوں میں تو نماز میں دعا کرنا گویا کفر سمجھا جاتا تھا- ان کا خیال تھا کہ نماز پڑھ چکنے کے بعد ہاتھ