انوارالعلوم (جلد 10) — Page 171
۱۷۱ اب دیکھو انیس سو سال کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا اس واقعہ کی اصل حقیقت کا پتہ لگانا کتنا بڑا کام ہے- خصوصاً جب کہ ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت مسیح کے صلیب پر سے زندہ اترنے کے ثبوت آپ نے خود انجیل سے ہی دیئے ہیں- مثلاً یہ کہ حضرت مسیح سے ایک دفعہ علماء وقت نے نشان طلب کیا تھا- تو اس نے انہیں جواب میں کہا- ’’اس زمانہ کے برے اور زناکار لوگ نشان طلب کرتے ہیں- مگر یوناہ نبی کے نشان کے سوا کوئی اور نشان ان کو نہ دیا جائے گا- کیونکہ جیسے یوناہ تین رات دن مچھلی کے پیٹ میں رہا- ویسے ہی ابن آدم تین رات دن زمین کے اندر رہے گا‘‘- ۲۷؎ تورات سے ثابت ہے کہ حضرت یونسؑ تین دن تک مچھلی کے پیٹ میں زندہ رہے تھے اور پھر زندہ ہی نکلے تھے- پس ضروری تھا کہ حضرت مسیح ناصری بھی صلیب کے واقعہ کے موقع پر زندہ ہی قبر میں داخل کئے جاتے اور زندہ ہی نکلتے پس یہ خیال کہ حضرت مسیح علیہ السلام صلیب پر مر گئے تھے انجیل کے صریح خلاف ہے اور خود مسیح کی تکذیب اس سے لازم آتی ہے- عیسائیت کے مقابلہ میں حضرت مسیح موعودؑ کا یہ اتنا بڑا حربہ ہے کہ آپ کے کام کی عظمت ثابت کرنے کیلئے اکیلا ہی کافی ہے مگر آپ نے اس پر بھی بس نہیں کی- بلکہ آپ نے تاریخ سے ثابت کر دیا ہے کہ حضرت مسیح ناصری واقعہ صلیب کے بعد کشمیر آئے اور وہاں آ کر فوت ہوئے گویا ان کی سب زندگی کو پردہ اخفاء سے نکال کر ظاہر کر دیا- (۶) چھٹی غلطی حضرت مسیح کی زندگی اور دوبارہ آنے کے متعلق تھی اس غلطی کو بھی آپ نے ظاہر کیا اور بتایا کہ اس میں خدا تعالیٰ کی ہتک ہے کہ وہ اپنے کام کے لئے ایک پرانا آدمی سنبھال کر رکھ چھوڑے اور نیا آدمی نہ بنا سکے کیا جو صبح کی باسی روٹی رکھ کر شام کو کھائے اسے امیر کہا جائے گا؟ یہ باسی روٹی رکھنے والے کی امارت نہیں بلکہ غربت کا ثبوت ہوگا- وہ لوگ جو یہ کہتے ہیں- کہ خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح کو زندہ رکھا ہوا ہے تا کہ ان کے ذریعہ امت محمدیہﷺ کی اصلاح کرے- ان کے کہنے کا یہ مطلب ہوتا ہے کہ (نعوذ باللہ)اللہ تعالیٰ سے حضرت عیسیٰ جیسا انسان اتفاقاً بن گیا تھا جسے اس نے سنبھال کر رکھا ہوا ہے کہ جب دنیا میں فتنہ ہوگا تو اسے نازل کرے گا- مگر یہ غلط ہے جس طرح امیروں کا یہ کام ہوتا ہے کہ جو روٹی بچ رہے اسے غریبوں میں بانٹ دیتے ہیں اور دوسرے وقت نیا کھانا تیار کرتے ہیں- اسی طرح