انوارالعلوم (جلد 10) — Page 160
۱۶۰ تابع ہے حتی کہ یہاں تک کہتے تھے کہ احادیث قرآن کی آیات کو منسوخ کر سکتی ہیں- حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس غلطی کو اس طرح دور کیا کہ آپ نے فرمایا- قرآن کریم حاکم ہے اور احادیث اس کے تابع ہیں- ہم صرف وہی حدیث مانیں گے جو قرآن کریم کے مطابق ہو گی، ورنہ رد کر دیں گے- اسی طرح وہ حدیث جو قانون قدرت کے مطابق ہو وہ قابل تسلیم ہوگی- کیونکہ خدا تعالیٰ کا کلام اور اس کا فعل مخالف نہیں ہو سکتے- (۱۴) چودھواں نقص لوگوں میں یہ پیدا ہو گیا تھا کہ وہ سمجھتے تھے کہ قرآن ایک مجمل کتاب ہے جس میں موٹی موٹی باتیں بیان کی گئی ہیں- اخلاقی، تمدنی، معاشرتی باتوں کی تفصیل اس میں نہیں ہے- حضرت مسیح موعود علیہالصلوۃ والسلام نے اس کے متعلق یہ دعویٰ کیا کہ قرآن کریم ایک مکمل کتاب ہے جس نے روحانیات، معادیات، تمدنیات، سیاسیات اور اخلاقیات کے متعلق جتنے امور روحانی ترقی کے لئے ضروری ہیں، وہ سارے کے سارے بیان کر دیئے ہیں- اور فرمایا میں یہ سب باتیں نکال کر دکھانے کے لئے تیار ہوں- (۱۵) پندرھویں غلطی یہ لوگوں کو لگی ہوئی تھی کہ قرآن کریم کی بعض تعلیمیں وقتی اور عرب کی حالت اور اس زمانہ کے مطابق تھیں- اب ان میں تبدیلی کی جا سکتی ہے- چنانچہ سید امیر علی جیسے لوگوں نے لکھ دیا کہ فرشتوں کا اعتقاد اور کثرت ازدواج کی اجازت ایسی ہی باتیں ہیں- دراصل یہ لوگ عیسائیوں کے اعتراضوں سے ڈرتے تھے اور اس ڈر کی وجہ سے لکھ دیا کہ یہ باتیں عربوں کے لئے تھیں ہمارے لئے نہیں ہیں- اب ان کو چھوڑا جا سکتا ہے- حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا- یہ بات غلط ہے- قرآن کریم کے سارے احکام صحیح اور کوئی حکم وقتی نہیں سوا اس کے جس کے متعلق قرآن کریم نے خود بتا دیا ہو کہ یہ فلاں وقت اور فلاں موقع کے لئے حکم ہے- آپ نے بتایا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم آخری شریعت لانے والے تھے اس لئے سب تعلیمیں قرآن کریم میں موجود ہیں اور ہر زمانہ کے لئے ہیں- ہاں ان تعلیموں پر عمل کرنے کے اوقات خود اس نے بتا دیئے ہیں- اور قرآن کریم کی کوئی ایسی تعلیم نہیں ہے جس پر عمل ہمیشہ کے لئے بند ہو یا ایسی کوئی تعلیم نہیں ہے جس پر کوئی عمل نہ کر سکے اور تفصیلا آپ نے ان اعتراضوں کو دور کیا جو ملائکہ اور کثرت ازدواج اور ایسے ہی دوسرے مسائل پر پڑتے تھے- (۱۶) سولہویں غلطی لوگوں کو یہ لگ رہی تھی- کہ وہ قرآن کریم کو ایک متبرک کتاب