انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 85 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 85

۸۵ کہ مشن قائم کرنے کے لئے جگہ لے لی گئی ہے اور لیکچروں کا انتظام کیا گیا ہے اس طرح خود کام کرنے والے لوگ وہاں پیدا ہو گئے ہیں۔یہ بات ابھی انگلستان میں پیدا نہیں ہوئی مگر امریکہ میں ایسے نو مسلم ہیں جو اپنے خرچ سے مکان لیتے، ٹریکٹ شائع کرنے اور لیکچروں کا انتظام کرتے ہیں۔ایران میں بھی زیادہ اثر پیدا ہو رہا ہے۔وہاں کے مبلّغ لکھتے ہیں کہ گوشہ گوشہ میں احمدیت کا چرچا ہو رہا ہے۔وہاں بعض اخبارات میں ہماری اس تحریک کا جو اس سال جاری کی گئی ذکر کیا گیا ہے اور لکھا گیا ہے کہ مسلمانوں کو احمدیوں کی تقلید کرنی چاہئے۔شام میں بھی بہت کامیابی ہوئی ہے حال ہی میں ایک بڑے پِیر کا لڑکا جماعت میں داخل ہوا ہے اس کاباپ فوت ہو گیا ہے اس لئے مریدوں نے اسے لکھا کہ آکر اپنے باپ کی گدی کو سنبھالو مگر اس نے ان لوگوں کو کہا کہ تم اپنے نمائندے میرے پاس بھیجو۔میں تمہیں یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ مسیح موعود آگیا ہے۔اگر خداتعالی ان لوگوں کو توفیق دے اور وہ ایمان لے آئیں تو وہ ایک جنگی قوم ہے کئی طریق سے مفید ثابت ہو سکتی ہے۔اس میں سے کئی ہزار آغا خانی ہو چکے ہیں اور کئی ہز ار بھی باقی ہیں۔اس کے ساتھ یہ بھی بتانا چاہتا ہوں کہ وہاں سے ایک افسوس ناک تار بھی آیا ہے وہاں سے بہت سے خط آتے تھے کہ احمدیت کی اشاعت کے ساتھ ساتھ دشمنی بھی بڑھ رہی ہے اور لوگ احمدیوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔اب معلوم ہوا ہے کہ مولوی جلال الدین صاحب مبلّغ کو خنجر کے ساتھ زخمی کیا گیا ہے۔اس کے متعلق تفصیلی حالات معلوم کرنے کے لئے تار دیا گیا تھا جس کا ابھی تک کوئی جواب نہیں آیا۔دوستوں کو چاہئے دعا کریں کہ خدا تعالی ہمارے بھائیوں کی حفاظت کرے۔افریقہ میں بھی اس سال اچھا کام ہوا ہے کئی جگہ نئی جماعتیں قائم ہوئی ہیں۔وہ لوگ تعلیم میں ترقی کر رہے ہیں۔گورنمنٹ نے ہمارے مبلّغ کی تعلیمی کوششوں کو قابل تعریف قرار دیا ہے اور اینڈ (AID) دینی شروع کردی ہے۔سماٹرا میں کئی سو کی جماعت پیدا ہوگئی ہے۔ان لوگوں میں کئی اچھے آسودہ حال لوگ ہیں جو مالی طور پر بھی خدمت کر رہے ہیں وہاں کے پچیّس تیس طالب علم یہاں قادیان میں تعلیم پارہے ہیں۔وہاں انہی ایام میں مولوی رحمت علی صاحب سے مباحثہ ہو رہا ہے جس کے لئے کئی سو علماء جمع ہوئے ہیں اس مباحثہ میں کامیابی کے لئے بھی دوستوں کو دعا کرنی چاہئے۔اس مباحثہ میں گورنمنٹ کی سے آدمی مقررکئے گئے ہیں جو روائدلکھیں گے۔