انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 80 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 80

۸۰ کرے تو اسے سمجھانے کا ہر ایک کو حق ہے۔مثلاً اگر کوئی سکھ کہلا کر کیس کٹائے تو سکھوں کاحق ہے کہ اسے سمجھائیں اور کیس رکھنے کی حکمت بتائیں۔اسی طرح اگر کوئی مسلمان سؤر کا گوشت کھاتا ہے تو مسلمانوں کا حق ہے کہ اسے روکیں اور سؤر کے گوشت کے نقصانات اس کے ذہن نشین کریں یا کوئی ہندو گائے کا گوشت کھاتا ہے جیسا کہ مدراس وغیرہ کی طرف لاکھوں لوگ کھاتے ہیں تو ہندوؤں کو حق ہے کہ انہیں اس سے روکیں اور گائے کا گوشت کھانے کی مضرتیں بتائیں لیکن مسلمانوں کا سکھوں سے یہ کہنا کہ تم جھٹکہ نہ کرو اور ہندوؤں کا مسلمانوں سے یہ کہنا کہ تم گائے کا گوشت نہ کھاؤ اور مسلمانوں کا ہندوؤں سے یہ کہنا کہ تم بتوں کی پوجانہ کرو یہ دھینگا دھانگی ہے۔اسی طرح مسلمانوں کا ہندوؤں اور سکھوں سے یہ کہنا کہ مسجد کے پاس باجا نہ بجاؤ یہ بھی درست نہیں۔اگر کوئی شخص قرآن کریم لے کر بیٹھا ہو اور ہندو اس سے اونچی جگہ پر ہوں تو ان سے اس لئے لڑے کہ اونچے کیوں بیٹھے ہو تو یہ اس کی غلطی ہو گی کیونکہ قرآن مسلمانوں کے نزدیک قابل احترام ہے نہ کہ ہندو کے نزدیک۔کیا ایک شخص جو اپنے باپ کی عزت کی خاطر اس سے نیچے بیٹھا ہو اس کا حق ہے کہ اگر کوئی اس کے باپ کے برابر یا اس سے اونچی جگہ پر آبیٹھے تو اس سے لڑے کہ وہ اونچا کیوں بیٹھا ہے۔یا کسی کے ہاں ماتم ہو جائے اور وہ ڈنڈا لئے سارے ضلعمیں پھرے کہ کسی کے گھر شادی نہ ہونے دیں گے کیونکہ ہماری ماں مرگئی ہے تو کیا یہ اس کا حق ہو سکتا ہے؟ یا کسی کے گھر شادی ہو تو ڈنڈا لئے پھرے کہ کسی کے گھر ماتم نہ ہونے دیں گے کیونکہ ہمارے ہاں شادی ہے تو کیا یہ اس کے لئے جائز ہے؟ جو ڈھول بجانا چاہتے ہیں وہ اسے بے شک بجا بجا کر پھاڑ ڈالیں اور باجے جس قدر چاہیں بجالیں کسی کو روکنے کا کیا حق ہے۔اسی طرح جو گائے کا گوشت کھانا جائز سمجھتے ہیں وہ کھائیں دوسرے انہیں کیوں روکیں۔مگر حیرت ہے یہ بات ان لوگوں کی سمجھ میں نہیں آتی جو دینی اور دنیوی علوم کے عالم کہلاتے، مدبر سمجھے جاتے اور راہنما بنے ہوئے ہیں وہ اسی بات پر اڑے بیٹھے ہیں کہ ہم فلاں بات ناجائز سمجھتے ہیں دوسرے کیوں اسے جائز قرار دیتے ہیں ہمیں فلاں کام پسند نہیں اس لئے جنہیں پسند ہے انہیں ہم نہیں کرنے دیں گے۔باوجود اس کے کہا جاتا ہے کہ اس زمانہ میں دین کے معاملہ میں کوئی کسی پر جبر نہیں کرتا۔ان لوگوں کے عمل اور اس قول کو دیکھ کر ایک مشہور قصہ یاد آجاتا ہے۔کہتے ہیں ایک گاؤں اس وجہ سے مشہور تھا کہ وہاں سارے بے وقوف بستے تھے اور سب کے سب بے ہودہ باتیں کرتے تھے۔اس گاؤں کے قریب سے دو آدمی گزرے جو آپس میں باتیں کرتے جاتے تھے کہ یہ وہ گاؤں ہے جو بے وقوفوں