اسماء المہدی علیہ السلام

by Other Authors

Page 319 of 498

اسماء المہدی علیہ السلام — Page 319

اسماء المهدی صفحہ 319 تثلیث کے مذہب کی تخمریزی تھی۔غرض یہ شرک عظیم کا کھیت اول دمشق میں ہی بڑھا اور پھولا اور پھر یہ زہر اور اور جگہوں میں پھیلتی گئی۔پس چونکہ خدا تعالیٰ کو معلوم تھا کہ انسان کو خدا بنانے کا بنیادی پتھر اول دمشق میں ہی رکھا گیا۔اس لئے خدا نے اُس زمانہ کے ذکر کے وقت کہ جب غیرتِ خداوندی اس باطل تعلیم کو نابود کرے گی ، پھر دمشق کا ذکر فرمایا۔اور کہا کہ مسیح کا منارہ یعنی اس کے نور کے ظاہر ہونے کی جگہ دمشق کی مشرقی طرف ہے۔اس عبارت سے یہ مطلب نہیں تھا کہ وہ منارہ دمشق کی ایک جز ہے اور دمشق میں واقع ہے، جیسا کہ بدقسمتی سے سمجھا گیا۔بلکہ مطلب یہ تھا کہ مسیح موعود کا نور آفتاب کی طرح دمشق کے مشرقی جانب سے طلوع کر کے مغربی تاریکی کو دور کرے گا۔اور یہ ایک لطیف اشارہ تھا کیونکہ مسیح کے منارہ کو جس کے قریب اس کا نزول ہے دمشق کے مشرقی طرف قرار دیا گیا اور دمشقی تثلیث کو اس کے مغربی طرف رکھا۔اور اس طرح آنے والے زمانہ کی نسبت یہ پیشگوئی کی کہ جب مسیح موعود آئے گا تو آفتاب کی طرح جو مشرق سے نکلتا ہے۔ظہور فرمائے گا۔اور اس کے مقابل پر تثلیث کا چراغ مردہ جو مغرب کی طرف واقع ہے، دن بدن پر مردہ ہوتا جائے گا۔کیونکہ مشرق سے نکلنا خدا کی کتابوں سے اقبال کی نشانی قرار دی گئی ہے اور مغرب کی طرف جانا ادبار کی نشانی۔“ س:۔(روحانی خزائن جلد 16، صفحہ 21 تا 27۔خطبہ الہامیہ ) حدیثوں میں جو مسیح موعود کے نزول کا ذکر ہے۔اس نزول