اسماء المہدی علیہ السلام

by Other Authors

Page 480 of 498

اسماء المہدی علیہ السلام — Page 480

اسماء المهدی صفحہ 480 نوح ” خدا تعالیٰ نے میرا نام نوح بھی رکھا ہے۔اور میری نسبت فرمایا ہے وَلَا تُخَاطِبْنِيْ فِي الَّذِيْنَ ظَلَمُوا إِنَّهُمْ مُّغْرَقُوْن۔۔۔۔یعنی ظالموں کی شفاعت کے بارے میں مجھ سے کوئی بات نہ کر کہ میں ان کو غرق کر دوں گا۔خدا نے نوح کے زمانہ میں ظالموں کو قریباً ایک ہزار سال تک مہلت دی تھی۔اور اب بھی خیر القرون کی تین صدیوں کو علیحدہ رکھ کر ہزار برس ہی ہو جاتا ہے۔اس حساب سے اب یہ زمانہ اس وقت پر آپہنچتا ہے جبکہ نوح کی قوم عذاب سے ہلاک کی گئی تھی۔اور خدا تعالیٰ نے مجھے فرمایا وَاصْنَعِ الْفُلْكَ بِأَعْيُنِنَا وَوَحْيِنَا إِنَّ الَّذِيْنَ يُبَايِعُونَكَ إِنَّمَا يُبَايِعُونَ اللَّهَ يَدُ اللَّهِ فَوْقَ أَيْدِيهِمْ یعنی میری آنکھوں کے رو برو اور میرے حکم سے کشتی بنا۔وہ لوگ جو تجھ سے بیعت کرتے ہیں۔وہ نہ تجھ سے بلکہ خدا سے بیعت کرتے ہیں۔یہ خدا کا ہاتھ ہے جو اُن کے ہاتھوں پر ہے۔یہی بیعت کی کشتی ہے۔جو انسانوں کی جان اور ایمان بچانے کے لئے ہے۔لیکن بیعت سے مراد وہ بیعت نہیں جو صرف زبان سے ہوتی ہے اور دل اس سے غافل بلکہ روگردان ہے۔بیعت کے معنے بیچ دینے کے ہیں۔پس جو شخص در حقیقت اپنی جان اور مال اور آبر وکو اس راہ میں بچتا نہیں، میں بیچ بیچ کہتا ہوں کہ وہ خدا کے نزدیک بیعت میں داخل