اسماء المہدی علیہ السلام

by Other Authors

Page 472 of 498

اسماء المہدی علیہ السلام — Page 472

اسماء المهدی۔صفحہ 472 نبی نیکوں کے لئے بشیر ہوتے ہیں اور بدوں کے لئے نذیر نذیر کا لفظ جس کے معنے گنہگاروں اور بدکاروں کو ڈرانا ہے۔اسی لفظ سے یقینی سمجھا جاتا ہے کہ قرآن کا یہ دعویٰ تھا کہ تمام دنیا بگڑ گئی۔اور ہر ایک نے سچائی اور نیک بختی کا طریق چھوڑ دیا کیونکہ انذار کامل فاسق اور مشرک اور بد کا رہی ہیں۔اور انذار اور ڈرانا مجرموں کی تنبیہ کے لئے ہوتا ہے نہ نیک بختوں کے لئے۔اس بات کو ہر یک جانتا ہے کہ ہمیشہ سرکشوں اور بے ایمانوں کو ہی ڈرایا جاتا ہے اور سنت اللہ اسی طرح پر ہے کہ نبی نیکوں کے لئے بشیر ہوتے ہیں اور بدوں کے لئے نذیر۔پھر جبکہ ایک نبی تمام دنیا کے لئے نذیر ہوا تو ماننا پڑا کہ تمام دنیا کو نبی کی وحی نے بداعمالیوں میں مبتلا قرار دیا ہے۔“ (روحانی خزائن جلد 9 صفحہ 337- نورالقرآن نمبر (1) اس مذکورہ بالا اقتباس سے ظاہر ہے کہ کسی کا نذیر ہو کر خدا تعالیٰ کی طرف سے آنا اس بات کی علامت ہوتا ہے کہ دنیا میں بد عملی اور بے دینی کا دور دورہ ہے۔گویا نذیر نام کے ذریعہ اس زمانہ کی مذہبی حالت بتائی گئی ہے۔اور اس کے انجام کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے۔حضور علیہ السلام فرماتے ہیں:۔” حوادث کے بارے میں جو مجھے علم دیا گیا ہے وہ یہی ہے کہ ہر ایک طرف دنیا میں موت اپنا دامن پھیلائے گی اور زلزلے آئیں گے۔اور شدت سے آئیں گے اور قیامت کا نمونہ ہوں گے اور زمین کو تہ و بالا