اسماء المہدی علیہ السلام — Page 423
اسماء المهدی روحانی مصلح کے چار اوصاف صفحہ 423 حضور علیہ السلام فرماتے ہیں کہ ہر ایک مصلح، ریفارمر، ولی، نبی میں چار باتوں کا ہونا ضروری ہے۔اول :- اس میں ایک بصیرت ہو۔جس سے وہ علمی مسائل کو ایسے رنگ میں پیش کرے جس سے سنے والوں کو ایک لذت حاصل ہو۔کیونکہ نامعقول بات سے انسان کے دل میں ایک خلش رہتی ہے اور معقول بات خوامخواہ پسندیدہ ہوتی ہے اور اس میں ایک لذت ہوتی ہے۔جیسا کہ شربت میں طبعا ایک لذت محسوس ہوتی ہے۔دوم :- یہ کہ اس میں ایک عملی طاقت ہو۔خود عالم باعمل ہو۔صدق ، وفا اور شجاعت اس میں پائی جاتی ہو۔کیونکہ جو شخص خود عمل کرنے والا نہیں اس کا اثر دوسروں پر ہرگز نہیں ہوسکتا۔سوم : - یہ کہ اس میں کشش ہو۔کوئی نبی نہیں جس میں قوت جاذبہ نہ ہو۔ہر ایک مامور کو ایک قوت جاذ بہ عطا کی جاتی ہے کہ وہ اپنی جگہ بیٹھا ہوا دوسروں کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔اور لوگ اس کی طرف کھنچے ہوئے چلے آتے ہیں۔چہارم : - یہ کہ وہ خوارق اور کرامات دکھائے اور نشانات کے ذریعہ سے لوگوں کے ایمان کو پختہ کرے۔(اس کی مزید تفصیلات ”امام“ کے عنوان کے تحت بیان ہو چکی ہیں۔)