اسماء المہدی علیہ السلام

by Other Authors

Page 234 of 498

اسماء المہدی علیہ السلام — Page 234

اسماء المهدی صفحہ 234 آفتاب کی جلتی ہوئی دھوپ میں بیٹھے ہیں۔اور آفتاب کی دھوپ اور ان میں کوئی اوٹ نہیں اور آفتاب سے انہوں نے کوئی روشنی تو حاصل نہیں کی اور صرف یہ حصہ ملا ہے کہ ان سے بدن اُن کے جل رہے ہیں۔اور اوپر کی جلد سیاہ ہو گئی ہے۔اس قوم سے مراد مسلمان ہیں جو آفتاب کے سامنے تو ہیں مگر بجز جلنے کے اور کچھ ان کو فائدہ نہیں ہوا۔یعنی ان کو تو حید کا آفتاب دیا گیا مگر بجز جلنے کے آفتاب سے انہوں نے کوئی حقیقی روشنی حاصل نہیں کی۔یعنی دینداری کی کچی خوبصورتی اور بچے اخلاق وہ کھو بیٹھے اور تعصب اور کینہ اور اشتعال طبع اور درندگی کے چلن ان کے حصہ میں آگئے۔“ (روحانی خزائن جلد 20، صفحہ 199۔لیکچر لاہور ) مبارک وہ جوان پیشگوئیوں کو غور سے پڑھے خلاصہ کلام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس پیرا یہ میں فرماتا ہے کہ ایسے وقت میں مسیح موعود جو ذوالقرنین ہے آئے گا جبکہ عیسائی تاریکی میں ہوں گے اور ان کے حصہ میں صرف ایک بد بودار کیچڑ ہوگا جس کو عربی میں حَما کہتے ہیں اور مسلمانوں کے ہاتھ میں صرف خشک توحید ہوگی جو تعصب اور درندگی کی دھوپ سے جلے ہوں گے۔اور کوئی روحانیت صاف نہیں ہوگی۔اور پھر مسیح موعود جوذ والقر نین ہے۔ایک تیسری قوم کو پائیں گے جو یا جوج ماجوج کے ہاتھ سے بہت تنگ ہوگی۔اور وہ لوگ بہت دیندار ہوں گے اور ان کی طبیعتیں سعادتمند ہوں گی۔اور وہ ذوالقرنین سے جو