اسماء المہدی علیہ السلام — Page 486
اسماء المهدی صفحہ 486 ولی اللہ يَا وَلِيَّ اللَّهِ كُنْتُ لَا أَعْرِفُک۔یعنی اے خدا کے ولی ! میں اس سے پہلے تجھے نہ پہچانتی تھی۔اس کی تفصیل یہ ہے کہ کشفی طور پر زمین میرے سامنے کی گئی اور اس نے یہ کلام کیا کہ میں اب تک تجھے نہیں پہچانتی تھی کہ تو ولی الرحمان ہے۔۔", (روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 229 حاشیہ۔دافع البلاء) مَنْ عَادَى وَلِيًّا لِيْ فَكَأَنَّمَا حَرَّمِنَ السَّمَاءِ۔جو میرے ولی سے دشمنی کرے گویا وہ آسمان سے گر گیا۔“ ( تذکرہ طبع چہارم صفحہ 623) " آج رات میں نے دیکھا کہ ایک شخص مجھ کو کہتا ہے کہ تم ولی ہو۔میں نے کہا کہ کیونکر۔اس نے جواب دیا کہ میں تمہارے ملنے کے لئے آیا تھا۔راہ میں دریا تھا۔میں نے کہا کہ اگر یہ ولی ہے تو دریا کا یہ کنارہ گر پڑے تبھی وہ گر پڑا۔“ ( تذکر طبع چہارم، صفحہ 194) حدیث بیچ میں ہے : وَمَنْ عَادَى وَلِيًّا لِي فَقَدْ أَذَنْتُهُ لِلْحَرْبِ یعنی جو شخص میرے ولی کا دشمن ہو تو میں اس کو متنبہ کرتا ہوں کہ اب میری لڑائی کے لئے طیار ہو جا۔غرض اہل اصطفاء خدائے تعالیٰ کے بہت پیارے ہوتے ہیں اور اس سے نہایت شدید تعلق رکھتے ہیں۔ان کی